قومی سائبر سیکیورٹی کنٹرول روم اسلام آباد میں قائم کر دیا گیا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے پاک سیکرٹریٹ کے ایل بلاک میں یہ مرکز قائم کیا ہے۔ یہ کنٹرول روم چوبیس گھنٹے کام کرے گا۔
حکام کے مطابق موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر سرکاری ویب سائٹس اور قومی ڈیجیٹل نظام کو ممکنہ حملوں کا خطرہ ہے۔
قومی سائبر سیکیورٹی کنٹرول روم پورے ملک میں سائبر واقعات کی نگرانی اور فوری ردعمل کے لیے مرکزی رابطہ مرکز کا کردار ادا کرے گا۔
تمام انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں اور صوبائی و شعبہ جاتی اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ مسلسل نگرانی کو یقینی بنائیں۔
کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کو دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن سمیت متعلقہ اداروں کو فوکل پرسن نامزد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
چار مارچ دو ہزار چھبیس تک تازہ رابطہ تفصیلات جمع کرانا لازمی ہوگا۔
ڈاکٹر محمد یوسف اور ڈاکٹر مجاہد شاہ کو قومی سطح پر رابطہ کاری کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
حکام نے سائبر حملوں، ڈیٹا چوری، رینسم ویئر اور دیگر خطرات سے بچاؤ کیلئے سیکیورٹی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔
اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے نظام کی باقاعدہ جانچ کریں اور بیک اپ نظام فعال رکھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ قومی سائبر سیکیورٹی کنٹرول روم کا قیام قومی ڈیجیٹل نظام کے تحفظ کیلئے اہم قدم ہے۔


