Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی ایران کے لیے بقا کی جنگ قرار، علاقائی جنگ کا خدشہ بڑھ گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ایران نے حالیہ تنازع کو اپنی بقا کی جنگ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس پر کسی بھی حملے کی صورت میں جنگ ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے پہلے ہی اپنے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا تھا کہ کسی بھی ملک کی جانب سے حملوں میں سہولت کاری کو دشمنی تصور کیا جائے گا۔

مشاہدحسین سید کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک ماضی میں ایران کے خلاف داخلی طور پر مخالفانہ موقف رکھتے تھے، تاہم سفارتی سطح پر ایک رسمی توازن برقرار رکھا جاتا تھا جو موجودہ کشیدگی میں ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ایران نے ترکی، آذربائیجان اور عمان جیسے ممالک کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا کیونکہ تہران کے مطابق ان ممالک نے کسی قسم کی عملی سہولت کاری نہیں کی، جبکہ بعض دیگر علاقائی ممالک کے بارے میں ایران کا موقف مختلف بتایا جاتا ہے۔

دوسری جانب چین اور روس کا کردار بظاہر محدود نظر آ رہا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق چین طویل المدتی حکمت عملی کے تحت موجودہ تنازعات میں براہ راست مداخلت سے گریز کر رہا ہے اور اپنی توجہ مستقبل کے عالمی توازن پر مرکوز رکھے ہوئے ہے۔ مبصرین کے مطابق چین کے نزدیک آئندہ برسوں میں بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران نے حالیہ حملوں کے بعد اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کی فعالیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری ردعمل دیا، جسے ایرانی نظام کی ادارہ جاتی مضبوطی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں ریاستی ڈھانچے کے اندر ایک مضبوط ادارہ جاتی نظام موجود ہے جو ہنگامی حالات میں بھی حکومتی تسلسل برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران میں انفرادی قیادت کے بجائے اجتماعی قیادت کا تصور مضبوط ہو رہا ہے اور ایرانی قیادت کو یقین ہے کہ وقت ان کے حق میں ہے۔
مزیدپڑھیں:سونا ہزاروں روپے سستا،چاندی کی اونچی اڑان ، جانیے فی تولہ نئی قیمت؟

یہ بھی پڑھیں