Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

کینیڈا بھارت یورینیم معاہدے پر پاکستان کی تشویش، عالمی ایٹمی نظام پر سوالات

کینیڈا بھارت یورینیم معاہدے پر پاکستان کی تشویش

پاکستان نے کینیڈا بھارت یورینیم معاہدے پر پاکستان کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عالمی ایٹمی عدم پھیلاؤ کے نظام پر اثر پڑ سکتا ہے۔

یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب کینیڈا اور بھارت نے طویل مدتی یورینیم فراہمی اور جدید ایٹمی ٹیکنالوجی میں تعاون کے معاہدوں کا اعلان کیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ سول ایٹمی تعاون غیر امتیازی اصولوں کے تحت ہونا چاہیے اور اس میں تمام ممالک کے لیے یکساں معیار ہونا ضروری ہے۔

دفتر خارجہ کا مؤقف

ترجمان نے کہا کہ مخصوص ممالک کے لیے رعایتیں عالمی ایٹمی عدم پھیلاؤ کے نظام کی ساکھ کو متاثر کرتی ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 1974 میں بھارت کے ایٹمی تجربے کے بعد ہی عالمی برآمدی کنٹرول کے نظام اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا قیام عمل میں آیا تھا۔

ترجمان کے مطابق بھارت نے اپنی تمام سول ایٹمی تنصیبات کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں نہیں رکھا۔

علاقائی توازن پر خدشات

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بیرونی یورینیم کی فراہمی بھارت کو اپنے مقامی ذخائر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا موقع دے سکتی ہے۔

اس سے جوہری مواد کے ذخائر میں اضافہ ہو سکتا ہے اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

بھارت اور کینیڈا کے معاہدے

بھارت اور کینیڈا نے نئی دہلی میں کئی معاہدوں کا اعلان کیا جن میں اہم معدنیات، قابل تجدید توانائی اور جوہری توانائی میں تعاون شامل ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی توانائی اور اعتماد پیدا ہوا ہے۔

کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی اس تعاون کو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے ایک نئی شروعات قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں