پاکستان بجلی سبسڈی ایک بار پھر معاشی مذاکرات میں اہم موضوع بن گئی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے آئندہ مالی سال کے لیے تقریباً ایک کھرب روپے کی سبسڈی تجویز پر اعتراض اٹھایا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے یہ منصوبہ آئی ایم ایف کو جاری مذاکرات کے دوران پیش کیا۔ یہ بجٹ مالی سال 2026 سے 2027 کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔
پاور ڈویژن نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ پاکستان بجلی سبسڈی کے لیے تقریباً 990 ارب روپے درکار ہو سکتے ہیں۔ یہ رقم موجودہ سال کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد زیادہ ہے۔
موجودہ سال کے مقابلے میں اضافہ
رواں مالی سال میں بجلی سبسڈی تقریباً 893 ارب روپے ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ آئندہ سال یہ رقم اس سے کم رکھی جائے۔
تجویز کردہ سبسڈی میں سے 400 ارب روپے سے زائد بجلی چوری اور نظام کی کمزوریوں سے ہونے والے نقصانات پورے کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں۔
یہ نقصانات مسلسل قومی بجٹ پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور بجلی کے شعبے کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
کراس سبسڈی کا نظام
اضافی 100 ارب روپے تقریباً اس رقم کے برابر ہیں جو کراس سبسڈی کے ذریعے وصول کی جاتی ہے۔
اس نظام کے تحت زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین اضافی رقم ادا کرتے ہیں تاکہ کم استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو رعایت دی جا سکے۔
300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے گھروں کو سہولت دینے کے لیے دیگر صارفین سے فی یونٹ 7 سے 12 روپے اضافی وصول کیے جاتے ہیں۔
سبسڈی بڑھنے کی وجوہات
حکام کے مطابق پاکستان بجلی سبسڈی میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں گردشی قرضے پر زیادہ سودی ادائیگیاں اور کے الیکٹرک کے معاملات شامل ہیں۔
پاور ڈویژن نے آئی ایم ایف کو یہ بھی بتایا کہ چین نے توانائی کے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔
پاور ڈویژن کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ اس پر حتمی مؤقف وزارت خزانہ ہی دے سکتی ہے۔
گردشی قرضہ بڑا مسئلہ
آئی ایم ایف نے موجودہ پروگرام میں گردشی قرضے کے اضافے کی محدود اجازت دی ہے۔
حکام کے مطابق اگلے مالی سال میں گردشی قرضہ 500 ارب روپے سے زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ یہ اضافہ 300 سے 325 ارب روپے تک محدود رہے۔
سبسڈی کا بوجھ عوام پر
یہ سبسڈی دراصل ٹیکس دہندگان ادا کرتے ہیں۔ گزشتہ سال تنخواہ دار طبقے نے تقریباً 606 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔
وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے بھی اعتراف کیا تھا کہ بجلی چوری اور کم وصولیوں کے باعث حکومت کو تقریباً 497 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
سیکیورٹی صورتحال کا اثر
حکام نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے باعث نقصانات کم کرنا مشکل ہے۔
تاہم سندھ میں زیادہ نقصانات کے حوالے سے آئی ایم ایف کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہیں دیا جا سکا۔
شمسی توانائی پالیسی میں تبدیلی
حکومت نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ نیٹ میٹرنگ کے بجائے اب نیٹ بلنگ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔
اس نظام کے تحت قومی گرڈ سے بجلی تقریباً 60 روپے فی یونٹ فروخت ہو سکتی ہے جبکہ شمسی بجلی 9 روپے فی یونٹ سے بھی کم قیمت پر خریدی جائے گی۔
گردشی قرضہ کم کرنے کی کوشش
گردشی قرضہ کم کرنے کے لیے حکومت نے کمرشل بینکوں سے 1.23 کھرب روپے کا نیا قرض بھی لیا ہے۔
حکام کے مطابق 2031 سے پہلے گردشی قرضے کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔



