اسلام آباد (نیوز ڈیسک) موبائل فون سے کیے جانے والے ایک ایس ایم ایس پر صارف سے کتنی رقم وصول کی جا رہی ہے یہ ہوشربا انکشاف سامنے آیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق سینیٹر مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں صدر ایچ بی ایل نے شرکت کی اور صارفین سے اس وقت ایک ایس ایم ایس پر وصول کی جانے والی رقم سے متعلق ہوشربا انکشاف کیا۔
صدر ایچ بی ایل نے بتایا کہ 2021 میں صارفین سے ایک ایس ایم ایس پر 48 پیسے وصول کیے جاتے تھے۔ آج صارفین سے ایک میسج پر 3 روپے 44 پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔ ٹیلی کام نے چند سالوں میں ایس ایم ایس چارجز میں بڑا اضافہ کیا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ اتنے پیسے کی تو ریکوری کرنی چاہیے۔
نمائندہ ٹیلی کام نے کہا کہ ہم جو بھی رقم بینکوں سے لیتے ہیں، ہمارے پاس سب تفصیلات ہیں۔ زیادہ تر نوٹیفکیشن کسٹمر سیفٹی کیلیے ہوتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ایپ کے ذریعے نوٹیفکیشن کا آپشن دیا ہے۔
نمائندہ ٹیلی کام سیکٹر کا موقف تھا کہ یہ ہمارا بزنس ہے اور ان ہی چیزوں سے ہم نے پیسہ کمانا ہے۔ اگر کہا جائے کہ یہ فری دے دو، وہ فری دے دو تو بزنس کتنے دن چلے گا۔
اس موقع پر نائب صدر ریگولیٹری افیئرز جاز ٹیلی کام مدثر حسین نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کے پاس سارا ڈیٹا موجود ہے۔ عام صارف کو بینک سے یومیہ 3 میسج ملتے ہیں، جس کی لاگت 10 روپے بنتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عام صارف کیلیے 300 روپے ماہانہ کے اخراجات ہیں۔ بینکوں کے میسج بہت سیکیورٹی کے ساتھ صارفین کو پہنچائے جاتے ہیں۔
رکن کمیٹی انوشہ رحمان نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیاں یہ بتائیں کہ ایک ایس ایم ایس بھیجنے کی کیا لاگت ہے؟ جس پر مدثر حسین نے کہا کہ میسج کی لاگت تو کم ہو سکتی ہے، مگر کاروبار چلانے کی بھی لاگت ہوتی ہے۔
چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے ٹیلی کام کمپنیوں سے گزشتہ ایک سال کا ڈیٹا طلب کرتے ہوئے کہا کہ جب سارا ڈیٹا آ جائے گا تو اس کا بھی تعین ہو جائے گا ۔
مزیدپڑھیں:ایران جنگ کے بعد کتنے ممالک میں پٹرول مہنگا ہوا، سب سے زیادہ قیمت کس نے بڑھائی؟
