اسلام آباد میں وفاقی حکومت (Federal Government)نے سرکاری ملازمین کے لیے بڑے پیمانے پر نیا ضابطہ نافذ کرتے ہوئے “سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026” جاری کر دیے ہیں، جن کے تحت سرکاری افسران کی سوشل میڈیا اور سیاسی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ نئے قواعد پاکستان اور بیرون ملک تعینات تمام سول سرونٹس پر فوری طور پر لاگو ہوں گے اور 1964 کے پرانے ضابطہ اخلاق کی جگہ لے لیں گے۔
نئے قوانین کے تحت گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو سالانہ بنیادوں پر اپنے اثاثے ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ان تفصیلات کا آڈٹ کرے گا اور بعض معلومات عوامی سطح پر بھی جاری کی جا سکتی ہیں۔
سوشل میڈیا سے متعلق قواعد میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کسی بھی بلاگ، وی لاگ یا نجی میڈیا پلیٹ فارم کو بغیر اجازت استعمال نہیں کر سکیں گے، اور نہ ہی سرکاری معلومات ذاتی اکاؤنٹس پر شیئر کی جا سکیں گی۔ مزید یہ کہ سرکاری ڈیوٹی کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنا بھی ممنوع ہوگا۔
مزیدپڑھیں:معین علی نے آئی پی ایل چھوڑ کر پی ایس ایل میں شمولیت کی وجہ بتا دی
نئے رولز کے مطابق ملازمین سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکیں گے، کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت بھی نہیں کر سکیں گے، اور سرکاری پالیسیوں پر عوامی سطح پر تنقید پر بھی پابندی ہوگی۔
اسی طرح کسی بھی بیرونی ادارے میں پارٹ ٹائم یا فل ٹائم ملازمت پر مکمل پابندی ہوگی، جبکہ مفاد کے ٹکراؤ کی صورت میں افسران کو خود کو فیصلے کے عمل سے الگ کرنا ہوگا۔
حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد سرکاری نظام میں شفافیت، دیانت داری اور نظم و ضبط کو مضبوط بنانا ہے۔



