ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب رانا منور غوث اپنی گاڑی میں کسی نجی مصروفیت کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے۔ اسی دوران اچانک نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ شروع کر دی۔
فائرنگ اتنی شدید تھی کہ گاڑی کے مختلف حصے بری طرح متاثر ہوئے، تاہم ان کے ہمراہ موجود محافظوں نے فوری طور پر صورتحال کو بھانپتے ہوئے جوابی کارروائی کی۔ محافظوں کی بروقت اور موثر جوابی فائرنگ کے باعث حملہ آور زیادہ دیر تک موقع پر نہ ٹھہر سکے اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران جائے وقوعہ سے خول بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے تاکہ حملہ آوروں کی شناخت میں مدد مل سکے۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔ قریبی علاقوں میں ناکہ بندی کر کے مشکوک افراد کی چیکنگ کی جا رہی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان تک جلد از جلد پہنچا جا سکے۔
مزید پڑھیں:ایران کا مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پاکستان نہ آنے کا اعلان



