ملک میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی بجلی کے بحران کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے، جہاں پاور ڈویژن(Power Division) پاکستان نے شارٹ فال میں اضافے کی وارننگ جاری کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاور ڈویژن نے پیٹرولیم ڈویژن پاکستان کو باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے بجلی کی پیداوار کے لیے فوری طور پر 400 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اگر ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فوری طور پر فعال نہ کیا گیا تو بجلی کا شارٹ فال بے قابو ہو سکتا ہے۔ یہ پلانٹس مجموعی طور پر تقریباً 6 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو موجودہ طلب کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ادھر کے الیکٹرک نے بھی اپنی گیس ضروریات کے حوالے سے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے اور ایل این جی کی بروقت فراہمی پر زور دیا ہے۔
پاور ڈویژن نے اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ ایل این جی کے ذریعے بجلی پیدا کرنا ڈیزل اور فرنس آئل کے مقابلے میں کم لاگت کا حامل ہے۔ اگر بروقت گیس دستیاب نہ ہوئی تو مہنگے ایندھن پر انحصار بڑھ جائے گا، جس کا براہ راست بوجھ عوام پر ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں منتقل ہوگا۔
مزیدپڑھیں:ایف آئی اے میں نوکری کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری
مزید برآں، آئندہ ہفتوں کے لیے بجلی کی طلب و رسد کا تخمینہ بھی متعلقہ حکام کو فراہم کر دیا گیا ہے تاکہ بروقت منصوبہ بندی کی جا سکے۔ پاور ڈویژن نے پیٹرولیم ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قطر سے اضافی ایل این جی کارگوز کے حصول کے لیے فوری اقدامات کرے، تاکہ سسٹم میں گیس کی کمی دور ہو اور ممکنہ لوڈشیڈنگ کے بڑے بحران سے بچا جا سکے۔
حکام کے مطابق بروقت فیصلے نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں بجلی کی قلت شدت اختیار کر سکتی ہے، جس سے نہ صرف گھریلو بلکہ صنعتی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔


