وزارت توانائی پاکستان(pakistan) اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے درمیان ٹرانزیکشن ایڈوائزری سروسز کا اہم معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کا مقصد ملک کے بجلی کے نظام کو جدید اور ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنا ہے۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں تقریباً ایک کروڑ صارفین کو اسمارٹ میٹرز فراہم کیے جائیں گے، جس سے نہ صرف بجلی کی ترسیل اور تقسیم کا نظام بہتر ہوگا بلکہ شفافیت میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور توانائی کا شعبہ جدید ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہوگا۔ یہ منصوبہ وزیراعظم کے وژن کے تحت پاور سیکٹر اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد کارکردگی میں بہتری، بجلی چوری میں کمی اور بلنگ کے نظام کو شفاف بنانا ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی مسابقتی عمل کے ذریعے اسمارٹ میٹرز کی لاگت میں تقریباً 40 فیصد تک کمی حاصل کی گئی ہے، جو اس منصوبے کی ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
مزیدپڑھیں:ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی اقبال محسود کی صاحبزادی گولنے لگنے سے جاں بحق
مزید برآں، نئے بجلی کنکشنز کے لیے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب لازمی قرار دے دی گئی ہے جبکہ روایتی میٹرز کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ موجودہ تھری فیز، کمرشل اور صنعتی کنکشنز کو بھی مرحلہ وار اسمارٹ میٹرز میں منتقل کیا جائے گا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی منظوری کے بعد خراب میٹروں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کو مزید تیز کیا گیا ہے تاکہ صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
حکام کے مطابق اسمارٹ میٹرز کے نفاذ سے ریکوری میں بہتری، لائن لاسز میں کمی اور بجلی کے نظام کی مجموعی کارکردگی میں اضافہ ہوگا، جس سے پاور سیکٹر کی مالی صورتحال مستحکم ہونے کے ساتھ شفافیت بھی بڑھے گی۔

