بین الاقوامی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی شرط پوری کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے شفافیت بڑھانے کی جانب اہم قدم اٹھا لیا ہے، جس کے تحت تمام کمپنیوں کو اپنے اصل مالکان کی تفصیلات جمع کرانے کی ڈیڈ لائن 30 اپریل مقرر کر دی گئی ہے۔
اس حوالے سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ملک میں بے نامی اور غیر شفاف کمپنیوں کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ تمام رجسٹرڈ کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے حقیقی مالکان (Ultimate Beneficial Ownership) کی تفصیلات لازمی طور پر جمع کرائیں۔
یو بی او سے مراد وہ افراد ہیں جو کمپنی کے اصل فائدہ اٹھانے والے یا کنٹرول رکھنے والے ہوتے ہیں، چاہے ان کا نام سرکاری دستاویزات میں بطور ڈائریکٹر یا شیئر ہولڈر درج ہو یا نہ ہو۔ یہ معلومات ایس ای سی پی کے آن لائن سسٹم کے ذریعے فارم 19 کے تحت جمع کرائی جائیں گی۔
مزیدپڑھیں:اسکولوں میں داخلے کے لیے عمر کی نئی حد مقرر، والدین کی پریشانی میں اضافہ
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد اینٹی منی لانڈرنگ قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا، مالیاتی نظام میں شفافیت لانا اور چھپے ہوئے کاروباری مفادات کو سامنے لانا ہے۔
ایس ای سی پی نے واضح کیا ہے کہ 30 اپریل تک تفصیلات جمع نہ کرانے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں کمپنیوں پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ جبکہ ذمہ دار افسران پر 10 لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
حکام نے تمام کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بروقت اپنی تفصیلات مکمل کریں تاکہ قانونی پیچیدگیوں اور ممکنہ سزاؤں سے بچا جا سکے۔



