Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سولر پینلز کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، بیٹریاں اور انورٹرز بھی مہنگے

ملک میں بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں اور طویل لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں نے توانائی کے متبادل ذرائع، خصوصاً سولر سسٹم کی طرف رجوع کیا ہے، تاہم بڑھتی ہوئی طلب نے سولر مارکیٹ میں قیمتوں کو نئی بلند سطح پر پہنچا دیا ہے۔

کراچی میں شہری جب ریلیف کی امید لے کر سولر پینلز خریدنے پہنچے تو انہیں دکانداروں کی جانب سے نمایاں مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا۔ صارفین کا کہنا ہے کہ جو سولر سسٹم کبھی بجلی کے بھاری بلوں سے نجات کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اب وہ بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 585 واٹ کی سولر پلیٹ کی قیمت میں اچانک تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 25 ہزار روپے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس اضافے نے خریداروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں طلب میں اضافے کے باعث قیمتیں بڑھی ہیں، تاہم درآمد کنندگان اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں۔ امپورٹر Shabbir Memon کے مطابق ملک میں سولر پینلز کی سالانہ بڑی مقدار میں درآمد کے باوجود قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کسی جواز کے بغیر ہے اور اس میں منافع خوری کا عنصر شامل ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ہر سال تقریباً 15 سے 16 ہزار کنٹینرز سولر پینلز درآمد کرتا ہے، اس کے باوجود مارکیٹ میں قیمتوں کا بڑھنا صارفین کے لیے باعثِ تشویش ہے۔

مزیدپڑھیں:وقت سے پہلے تنخواہ! سرکاری ملازمین کے لیے خوشی کی خبر آگئی

صرف سولر پینلز ہی نہیں بلکہ انورٹرز اور بیٹریوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے مجموعی سولر سسٹم کی لاگت مزید بڑھ گئی ہے اور عام صارف کے لیے اسے لگوانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مارکیٹ میں مؤثر ریگولیشن نہ کی گئی تو متبادل توانائی کے حصول کا خواب عام شہری کے لیے مزید مشکل ہو جائے گا۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سولر آلات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ توانائی کے بحران میں عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں