عالمی مالیاتی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر World Bank نے پاکستان اور افغانستان کو روایتی ’جنوبی ایشیا‘ کے گروپ سے نکال کر ایک نئے انتظامی و تجزیاتی خطے ’میناپ’ (MENAAP) میں شامل کر دیا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک پر مشتمل ہے۔ بظاہر اسے ایک تکنیکی اور تجزیاتی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس کے دور رس معاشی اور اسٹریٹجک اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
’میناپ‘ کیا ہے اور اس کی اہمیت کیوں؟
نئے گروپ ’میناپ‘ میں اب مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے 22 ممالک کے ساتھ پاکستان اور افغانستان بھی شامل ہو چکے ہیں، جس کے بعد اس بلاک کی مجموعی تعداد 24 ہو گئی ہے۔ اس خطے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، ایران اور دیگر اہم معیشتیں شامل ہیں، جو توانائی، سرمایہ کاری اور جغرافیائی سیاست کے لحاظ سے عالمی سطح پر اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔

درجہ بندی کیسے ہوتی ہے؟
عالمی بینک ممالک کو دو بنیادی اصولوں پر تقسیم کرتا ہے:
آمدنی کی بنیاد پر – جس کے تحت ممالک کو کم آمدنی، درمیانی اور اعلیٰ آمدنی والے زمروں میں رکھا جاتا ہے۔
علاقائی و معاشی خصوصیات کی بنیاد پر – جہاں جغرافیہ، معاشی ڈھانچہ، لیبر مارکیٹ، سیکیورٹی اور نجی شعبے کی کارکردگی کو دیکھا جاتا ہے۔
اسی دوسرے اصول کے تحت پاکستان کو اب جنوبی ایشیا کے بجائے ’میناپ‘ میں شامل کیا گیا ہے، کیونکہ اس کے معاشی مسائل اور انحصار اب مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے زیادہ مماثلت رکھتے ہیں۔
پاکستان کی معیشت اور مشرقِ وسطیٰ کا تعلق
پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا سہارا ترسیلاتِ زر ہیں، جن کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کی درآمد، روزگار کے مواقع اور سرمایہ کاری بھی بڑی حد تک اسی خطے سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی معاشی حقیقت اب جنوبی ایشیا کے مقابلے میں مشرقِ وسطیٰ سے زیادہ قریب سمجھی جا رہی ہے۔
ممکنہ فوائد
ماہرین کے مطابق اس تبدیلی سے پاکستان کو کئی اہم فوائد حاصل ہو سکتے ہیں:
معاشی پالیسیوں کا زیادہ حقیقت پسندانہ موازنہ
توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے خلیجی ماڈلز سے سیکھنے کا موقع
روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی
خلیجی ممالک سے براہِ راست سرمایہ کاری اور شراکت داری کے امکانات میں اضافہ
مزیدپڑھیں:کانٹیکٹ لینز پہن کر نہانے والی لڑکی بینائی کھو بیٹھی
مزید یہ کہ چونکہ اس گروپ میں کئی امیر خلیجی ممالک شامل ہیں، اس لیے پاکستان کو ترقیاتی فنڈز اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی مل سکتے ہیں۔
#تونس تعزّز منظومة الحماية الاجتماعية لأكثر الأسر احتياجاً بدعم من @AlbankAldawli. تمويل إضافي بقيمة 90 مليون دولار لتوسيع المنح العائلية لـ450 ألف طفل في سن الدراسة، وإحداث صندوق وطني لذوي الإعاقة، وفتح آفاق أوسع لفرص الشغل وسبل كسب العيش. https://t.co/TRY0RrngxE pic.twitter.com/aelsGq2Quz
— World Bank MENAAP (@WorldBankMENA) April 20, 2026
ممکنہ چیلنجز
دوسری جانب اس فیصلے کے کچھ منفی پہلو بھی سامنے آ سکتے ہیں:
پاکستان کا موازنہ اب نسبتاً چھوٹی جنوبی ایشیائی معیشتوں کے بجائے امیر خلیجی ممالک سے ہوگا
عالمی سرمایہ کاروں کی نظر میں پاکستان کی کارکردگی کمزور دکھائی دے سکتی ہے
فنڈز کے حصول کے لیے دیگر ترقی پذیر ’میناپ‘ ممالک کے ساتھ سخت مقابلہ
نئی معاشی سمت
اس تبدیلی کے بعد پاکستان کے لیے معاشی اہداف اور ترجیحات بھی بدل سکتی ہیں۔ اب ملک کو جنوبی ایشیا کے ترقیاتی ماڈلز کے بجائے مشرقِ وسطیٰ کے انفراسٹرکچر، توانائی اور سرمایہ کاری کے ماڈلز سے ہم آہنگ ہونا ہوگا۔
آگے کا راستہ
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرتا ہے تو یہ قدم طویل المدتی استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو بڑھتا ہوا مقابلہ چیلنجز کو مزید پیچیدہ بھی بنا سکتا ہے۔
More than 693,000 low-income families in #Egypt 🇪🇬 have accessed formal, affordable housing—thanks to the @worldbankgroup Inclusive Housing Finance Program.
The results:
✅Stronger housing security
✅A growing mortgage market
✅Millions of jobs supported https://t.co/L0xDESCd0M pic.twitter.com/pSmn9Xzx14— World Bank MENAAP (@WorldBankMENA) April 20, 2026
مجموعی طور پر World Bank کی یہ نئی درجہ بندی محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی شناخت اور عالمی پوزیشننگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں واضح طور پر سامنے آئیں گے۔
