جیل میں ملاقات کے دوران پاکستان تحریک انصاف(PTI) کے بانی نے اپنی قانونی ٹیم اور بعض وکلاء رہنماؤں کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد پارٹی کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر زیر بحث آ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران انہوں نے سینیٹر حامد خان، سلمان اکرم راجہ اور انتظار پنجوتھہ کی موجودگی اور کردار پر سوالات اٹھائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ جن وکلاء کو ان کے نام پر بار الیکشن میں ٹکٹ دیے گئے تھے، وہ اب کہاں ہیں اور ان کی عملی سرگرمی کیوں نظر نہیں آ رہی۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ انہیں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ٹکٹ حاصل کرنے والے وکلاء رہنما الیکشن کے بعد ان کی رہائی کے لیے ایک مضبوط سیاسی و قانونی مہم چلائیں گے، تاہم اس حوالے سے کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
مزیدپڑھیں:سپریم لیڈر شدید زخمی مگر ہوش میں ہیں، قاصدوں کے ذریعے پیغام رسانی جاری؛ ایرانی عہدیدار
مزید ذرائع کے مطابق بعض پارٹی شخصیات نے اس صورتحال پر اپنے تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مشعال یوسفزئی نے وکلاء کنونشن کے انعقاد کو بانی سے ملاقات سے مشروط کر دیا ہے۔
ادھر پارٹی کی سینئر رہنما علیمہ خان بھی ماضی میں متعدد مواقع پر وکلاء کی حکمت عملی اور کارکردگی پر کھل کر تنقید کرتی رہی ہیں، جس سے پارٹی کے اندرونی اختلافات اور گروپ بندیوں کی چہ مگوئیاں مزید بڑھ گئی ہیں




