امریکی اخبار نیویارک ٹائمز(New York Times) نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں ایران کی اعلیٰ قیادت اور فیصلہ سازی کے نظام سے متعلق اہم دعوے کیے ہیں، جنہوں نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر(Iran Supreme Leader) ذہنی طور پر فعال اور صورتحال سے مکمل طور پر باخبر ہیں، تاہم ملک کے اہم فیصلے عملی طور پر پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈروں پر مشتمل ایک گروپ کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔
ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سپریم لیڈر مبینہ طور پر ایک فضائی حملے میں زخمی ہوئے تھے اور اس وقت طبی نگرانی میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کی حالت سنبھلی ہوئی ہے مگر وہ عوامی سرگرمیوں میں نظر نہیں آ رہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم لیڈر تک معلومات اور پیغامات تحریری شکل میں قاصدوں کے ذریعے پہنچائے جاتے ہیں، جبکہ وہ بھی فیصلوں پر اپنی رائے تحریری طور پر دیتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث اعلیٰ حکام ان سے براہ راست ملاقات سے گریز کر رہے ہیں اور رابطے کے لیے غیر روایتی اور محفوظ طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:نسیم شاہ ایک بار پھر انجری کا شکار ہوگئے
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کا حکومتی نظام ایک “بورڈ آف ڈائریکٹرز” کے انداز میں چل رہا ہے، جس میں اہم کردار پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈرز کا ہے، جو دفاع اور خارجہ پالیسی جیسے معاملات پر فیصلہ سازی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ایران کے اندر طاقت کے ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی ہو سکتی ہے، تاہم تہران کی جانب سے ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں سفارتی مذاکرات اور اہم پالیسی فیصلوں میں بعض اداروں کے کردار میں تبدیلی دیکھی گئی ہے، جس سے ایران کی اندرونی سیاسی ساخت پر مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔


