Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پنجاب میں کم عمری کی شادی زیادتی شمار ہوگی، 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی کا بل صوبائی اسمبلی میں منظور

پنجاب اسمبلی(Punjab Assembly) نے کم عمری کی شادی کی روک تھام کابل منظور کرتے ہوئے 18 سال سے کم عمر میں شادی پر پابندی عائد کردی۔

بل کے متن کے مطابق پنجاب میں18سال سیکم عمربچوں کی شادی پرپابندی عائدہوگی، نکاح کے وقت دلہا اور دلہن کی عمر18سال ہونا لازمی قراردیا گیا ہے۔بل میں کہا گیا ہیکہ جبری شادی کی صورت میں متاثرہ بچے یا بچی کی حفاظت عدالت کریگی جب کہ کم عمری کی شادی قابلِ سزا جرم،کرمنل ایکٹ کیتحت کارروائی ہوگی اور 18سال سے کم عمر کی شادی کو زیادتی کے زمرے میں شمار کیا جائیگا۔

بل کے مطابق کم عمر بچے یا بچی سیشادی کرنے والیکو 3 سال قید اور 5 لاکھ روپیجرمانہ ہوگا، اسی طرح پنجاب سیتعلق رکھنے والیکم عمرکو دوسرے صوبے میں لے جاکرشادی کرنے پر7سال قید اور 10لاکھ جرمانہ ہوگا۔

بھارت: اکاؤنٹ سے رقم نکلوانے کیلئے بھائی قبر سے بہن کا ڈھانچہ نکال کر بینک پہنچ گیا

بل کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ نکاح رجسٹرار اور والدین بھی قانون کی زد میں آئیں گے، ایسے بچوں کیسرپرست کو 2 سال قید اور 5 لاکھ روپیجرمانہ ہوگا جب کہ کم عمری کا نکاح رجسٹر کرانے والے اور نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوگا۔

اس کے علاوہ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے اور بل منظوری کے بعد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 منسوخ سمجھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں