Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

بلوچستان بورڈ کے تحت میٹرک سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان

بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن(Balochistan Board of Intermediate and Secondary Education) نے میٹرک سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا، جس کے بعد صوبے بھر میں طلبہ و طالبات اور والدین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ نتائج کا اعلان چیئرمین بورڈ محمد اسحاق اور کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر ضیاء الحق کاکڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

بورڈ حکام کے مطابق رواں سال میٹرک امتحانات میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 45 ہزار سے زائد امیدواروں نے شرکت کی، جن میں سائنس اور ہیومینٹیز گروپس کے طلبہ شامل تھے۔ نتائج کے مطابق دہم جماعت میں مجموعی کامیابی کا تناسب 89.32 فیصد رہا، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتر قرار دیا جا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق دہم جماعت سائنس گروپ کے طلبہ نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جہاں کامیابی کی شرح 91.59 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب ہیومینٹیز گروپ میں کامیابی کا تناسب 75.66 فیصد رہا، جسے تعلیمی ماہرین نے مزید توجہ کا متقاضی قرار دیا ہے۔

نویں جماعت کے نتائج میں مجموعی کامیابی کی شرح 73.56 فیصد رہی۔ سائنس گروپ میں 73.91 فیصد طلبہ کامیاب ہوئے، جبکہ ہیومینٹیز گروپ میں یہ شرح صرف 36.86 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو دیگر گروپس کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فرق کی وجوہات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ برسوں میں ہیومینٹیز کے طلبہ کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔

ایل پی جی کی قیمت میں کمی گھریلو سلنڈر سستا ہو گیا

نتائج میں لورالائی کے طلبہ نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے دہم جماعت کی پہلی تینوں پوزیشنز اپنے نام کیں۔ تعلیمی حلقوں کی جانب سے لورالائی کے طلبہ، اساتذہ اور والدین کی کاوشوں کو سراہا جا رہا ہے۔

چیئرمین بورڈ محمد اسحاق نے اس موقع پر کامیاب طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے جدید امتحانی نظام اور شفافیت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کی کوشش ہے کہ طلبہ کو بروقت اور شفاف نتائج فراہم کیے جائیں تاکہ ان کے تعلیمی مستقبل میں آسانی پیدا ہو۔

کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر ضیاء الحق کاکڑ نے بتایا کہ امتحانی عمل کے دوران نقل کی روک تھام اور شفافیت یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے تھے، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

نتائج کے اعلان کے بعد مختلف شہروں میں کامیاب طلبہ و طالبات نے خوشی کا اظہار کیا، جبکہ والدین نے بھی بہتر نتائج پر اطمینان ظاہر کیا۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں تعلیمی میدان میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، تاہم دور دراز علاقوں میں تعلیمی سہولیات مزید بہتر بنانے کی ضرورت اب بھی موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں