پنجاب حکومت(Punjab Government) نے سرکاری اسکولوں میں مفت درسی کتب کی بروقت اور شفاف فراہمی یقینی بنانے کیلئے نئے تعلیمی سیشن سے قبل کتابوں کی تقسیم کا جامع پلان تیار کر لیا ہے، جس کے تحت مختلف جماعتوں کے طلبہ کو مرحلہ وار نئی اور قابلِ استعمال پرانی کتابیں فراہم کی جائیں گی۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق پہلی سے تیسری جماعت تک تمام طلبہ کو سو فیصد نئی درسی کتب فراہم کی جائیں گی تاکہ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو مکمل اور معیاری تعلیمی مواد میسر آ سکے۔
اسی طرح چوتھی اور پانچویں جماعت کے تقریباً 80 فیصد طلبہ کو نئی کتابیں دی جائیں گی، جبکہ ششم سے دہم جماعت تک 50 فیصد طلبہ کیلئے نئی کتب مختص کی گئی ہیں۔ تاہم دہم جماعت میں نئے نصاب کے نفاذ کے باعث اس جماعت کے تمام طلبہ کو مکمل نئی کتابیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ جن طلبہ کو نئی کتابیں فراہم نہیں کی جا سکیں گی، انہیں “بک بینک” نظام کے تحت سابقہ طلبہ سے حاصل کی گئی قابلِ استعمال کتابیں دی جائیں گی۔ اس مقصد کیلئے تمام سرکاری اسکولوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ تعلیمی سال مکمل کرنے والے طلبہ سے کتابیں واپس جمع کی جائیں تاکہ انہیں آئندہ سیشن میں دوبارہ استعمال کیا جا سکے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے لوگوں کی چیخیں نکال دیں، لوگ کیسے گزارا کریں گے، خواجہ سعد رفیق کی حکومت پر تنقید
ذرائع کے مطابق پنجاب بھر کے ضلعی اور تحصیل سطح کے ویئر ہاؤسز میں نئی درسی کتب کی ترسیل مکمل کر دی گئی ہے، جبکہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ نئے تعلیمی سیشن کے آغاز سے پہلے تمام اسکولوں میں کتابوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
کتابوں کی تقسیم طلبہ کی تازہ ترین انرولمنٹ کے مطابق کی جائے گی تاکہ کسی بھی طالب علم کو درسی مواد کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ محکمہ تعلیم نے ضلعی افسران اور اسکول انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ تقسیم کے عمل میں مکمل شفافیت برقرار رکھی جائے اور کسی قسم کی غفلت یا بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق “بک بینک” نظام سے نہ صرف وسائل کے بہتر استعمال میں مدد ملے گی بلکہ کتابوں کی کمی کے مسئلے پر بھی قابو پایا جا سکے گا، جبکہ حکومت کا یہ اقدام نئے تعلیمی سال میں لاکھوں طلبہ کیلئے سہولت کا باعث بنے گا۔


