سینیٹ آف پاکستان(Senate of Pakistan) میں ارکانِ سینیٹ کے بچوں کو 28 سال کی عمر تک بلیو پاسپورٹ جاری کرنے سے متعلق ترمیمی بل پیش کر دیا گیا، جس پر ایوان میں بحث کے بعد اسے مزید غور کیلئے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹر عبدالقادر نے پاسپورٹ ایکٹ 1974 میں ترمیم کا بل پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ گریڈ 22 کے سرکاری افسران کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ کی سہولت حاصل ہے، لہٰذا سینیٹ ارکان کے بچوں کو بھی یہ سہولت دی جانی چاہیے۔
دوسری جانب طلال چوہدری نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پاسپورٹ رولز کے تحت بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری نہیں کیا جا سکتا اور اس حوالے سے قواعد واضح ہیں۔
چیئرمین سینیٹ نے بل پر ابتدائی بحث کے بعد اسے مزید جائزے کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا، جہاں اس کے قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
عید الاضحی ٰسے قبل بینظیر انکم سپورٹ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری
واضح رہے کہ پاکستان میں پاسپورٹ کے اجرا کی ذمہ داری ڈائریکٹریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے پاس ہے، جو وزارت داخلہ کے تحت کام کرتا ہے۔
پاکستانی شہریوں کو عام طور پر عام (Ordinary) اور سرکاری (Official/Blue) پاسپورٹ جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ مشین ریڈ ایبل پاسپورٹس کو زیادہ محفوظ اور جدید تصور کیا جاتا ہے۔ 15 سال سے کم عمر بچوں کیلئے عام طور پر 5 سال مدت کا پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے۔
