اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری(Awais Laghari) نے کہا ہے کہ حکومت بجلی کے شعبے میں بڑی اصلاحات پر کام کر رہی ہے اور مستقبل میں بجلی کی قیمتیں اس حد تک کم کی جائیں گی کہ صارفین دن کے وقت بیٹریاں چارج کرکے رات میں استعمال کرسکیں گے۔
لمز پاور کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہی ممالک آگے بڑھتے ہیں جو توانائی کی قیمتوں کو عالمی منڈی کے مطابق لاتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نجی شعبے کو بجلی کے نظام میں زیادہ کردار دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور کمپنیوں کو اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے لیے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ نظام کو جدید اور شفاف بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ خراب میٹروں کے باعث اندازے پر کی جانے والی بلنگ صارفین پر اضافی بوجھ ڈالتی ہے، اسی لیے تمام بورڈز کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ کوئی بھی ڈیفیکٹو میٹر تین ماہ سے زیادہ فعال نہ رہے تاکہ شہریوں کو اضافی بلوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ حکومت نے نئے آئی پی پیز کے منصوبوں پر پیش رفت روک دی ہے اور مزید 10 ہزار میگاواٹ کے منصوبے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق متعدد آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی بھی کی گئی ہے جبکہ حکومت بتدریج کاروباری سرگرمیوں سے باہر نکل رہی ہے۔
حکومت کا عیدالاضحیٰ سے قبل تنخواہیں اور پنشن ادا کرنے کا فیصلہ
انہوں نے اعلان کیا کہ دن کے اوقات میں بی تھری اور بی فور کیٹیگری کے صارفین کے لیے بجلی 6 سے 7 روپے فی یونٹ تک سستی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ہدف بجلی کو اتنا کم قیمت بنانا ہے کہ لوگ دن میں بجلی استعمال کرکے بیٹریاں چارج کریں اور رات کے وقت انہی بیٹریوں سے فائدہ اٹھائیں۔
وفاقی وزیر توانائی نے مزید کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈز میں سیاسی بنیادوں پر تقرریاں نہیں کی گئیں اور اگر کسی بورڈ یا انتظامیہ کے درمیان ملی بھگت سامنے آئی تو سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ لیسکو اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی میں میٹروں کی خریداری کے عمل میں اربوں روپے کی بچت کی گئی ہے۔ اویس لغاری کے مطابق آئندہ ایک سے دو سال کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری مکمل کر لی جائے گی، جس سے بجلی کے شعبے میں اجارہ داری کا خاتمہ اور مقابلے کی فضا پیدا ہوگی۔



