لاہور: پنجاب حکومت(Punjab Government) کی جانب سے موسم گرما کی طویل تعطیلات کے اعلان کے بعد نجی اسکولوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر میں 22 مئی سے 24 اگست تک گرمیوں کی چھٹیوں کے حکومتی فیصلے پر نجی تعلیمی اداروں کی تنظیمیں سراپا احتجاج بن گئی ہیں۔ نجی اسکول مالکان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تقریباً تین ماہ تک تعلیمی ادارے بند رکھنے سے طلبہ کی تعلیم شدید متاثر ہوگی۔
نجی اسکولوں کی مختلف تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سمیت راولپنڈی، ملتان اور بہاولپور بینچوں میں درخواستیں دائر کی جائیں گی۔
آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ابرار حسین ملک نے کہا ہے کہ طویل تعطیلات کے باعث بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے جبکہ موبائل فون، ٹی وی اور دیگر اسکرینز کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ تعلیمی سلسلہ طویل عرصے تک منقطع ہونے سے اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے منفی اثرات پورے تعلیمی نظام پر مرتب ہوں گے۔
ایسوسی ایشن کے صدر عرفان مظفر کیانی نے مطالبہ کیا کہ موسم گرما کی تعطیلات کو مختصر کرتے ہوئے یکم جون سے 14 اگست تک محدود کیا جائے تاکہ تعلیمی نقصان کم سے کم ہو۔
دفاتر میں جمعہ کی چھٹی اور فرام ہوم کی سہولت ختم ، ورکنگ ڈے میں تبدیلی
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کے لیے سمر کیمپس کی اجازت دی جائے تاکہ بورڈ امتحانات کی تیاری متاثر نہ ہو۔
نجی اسکول نمائندوں کا کہنا ہے کہ رواں سال مارچ میں بھی کئی دن تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ اپریل میں بھی محدود تدریسی سرگرمیاں جاری رہ سکیں، جس کے باعث نصاب کی بروقت تکمیل پہلے ہی مشکل ہو چکی ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ شدید گرمی کے دوران اسکول مکمل بند کرنے کے بجائے اوقاتِ کار کم یا تبدیل کیے جائیں تاکہ تدریسی عمل جاری رکھا جا سکے۔
نجی اسکول مالکان نے گزشتہ ایک ماہ سے جمعہ اور ہفتہ کی اضافی تعطیلات پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں اور مؤقف اپنایا ہے کہ اس سے تعلیمی دن مزید کم ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی جانب سے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق پنجاب بھر میں موسم گرما کی تعطیلات 22 مئی سے شروع ہو کر 23 اگست تک جاری رہیں گی جبکہ تمام اسکول 24 اگست کو دوبارہ کھولے جائیں گے۔
