Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

فعال سیاست سے کنارہ کش نواز شریف کی اچانک ’سیاسی بیداری‘

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت اس وقت مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے، جبکہ دوسری جانب جماعت اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے بھی متحرک دکھائی دے رہی ہے۔

اسی تناظر میں پارٹی صدر نواز شریف ایک بار پھر سیاسی منظرنامے میں سرگرم نظر آنے لگے ہیں۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے پارٹی کی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے کے فیصلوں میں کردار ادا کیا۔

پارٹی کے اندر سے یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ آنے والے دنوں میں نواز شریف انتخابی مہم میں براہِ راست حصہ لے سکتے ہیں اور جلسوں سے خطاب بھی کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف عوامی سطح پر زیادہ متحرک دکھائی نہیں دیے۔ وہ زیادہ تر پنجاب حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرتے یا کبھی کبھار وزیراعظم سے ملاقاتوں کی خبروں میں نظر آتے رہے ہیں۔

تاہم اب ایسے وقت میں جب حکومت کو معاشی مسائل اور مہنگائی پر شدید تنقید کا سامنا ہے، نواز شریف کی دوبارہ سیاسی سرگرمیوں نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ وہ اس متحرک سیاست کے ذریعے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ن لیگ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ ن کی سیاست میں اس نوعیت کی سیاسی بے بسی پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

ان کے بقول، “یہ وہ نواز شریف نہیں جنہیں ہم جانتے تھے۔ ماضی میں وہ حکومت کے ہر اہم فیصلے میں براہِ راست دلچسپی لیتے تھے، یہاں تک کہ دال اور آٹے کی قیمتوں تک پر نظر رکھتے تھے۔ لیکن اب صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔”

امارات میں ایرانی سکولوں کے لائسنس کی منسوخی پر ایران کا احتجاج

سلمان غنی کے مطابق نواز شریف اس وقت اپنی جماعت کی ساکھ اور سیاسی بقا کے حوالے سے فکرمند ہیں، کیونکہ پارٹی کے اندر سے بھی مختلف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے فوری بلدیاتی انتخابات کروا کر نچلی سطح پر عوامی رابطہ مضبوط کرنے کی تجاویز بھی سامنے آ رہی ہیں۔

دوسری جانب سینیئر صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ پارٹی میں نواز شریف کا کردار اب کافی حد تک محدود ہو چکا ہے اور وہ زیادہ تر انتخابی سیاست تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔

ان کے مطابق جب بھی کسی انتخابی مرحلے کا آغاز ہوتا ہے تو نواز شریف دوبارہ سرگرم نظر آنے لگتے ہیں، تاہم عوامی سطح پر ان کی موجودگی کم ہو چکی ہے۔

عاصمہ شیرازی نے کہا کہ ماضی میں یہ تاثر تھا کہ نواز شریف مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے جیسے معاملات پر فوری ردعمل دیتے تھے، مگر اب وہ نہ تو قومی اسمبلی میں باقاعدگی سے نظر آتے ہیں اور نہ ہی میڈیا یا صحافیوں سے رابطے میں دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں صرف انتخابی جلسوں کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کرنا پہلے جیسا آسان نہیں رہا، کیونکہ سیاسی ماحول اور عوامی توقعات دونوں تبدیل ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں