Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

گلگت بلتستان الیکشن کی تیاریاں مکمل، دیامر میں دفعہ 144 کا نفاذ

دیامر(نیوز ڈیسک) گلگت بلتستان میں الیکشن کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں جبکہ ضلع دیامر میں دفعہ 144 کا نفاذ بھی کردیا گیا ہے۔گلگت بلتستان کے انتخابات کیلئے 24 حلقوں میں 396 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 266 آزاد امیدوار شامل ہیں، 7 خواتین امیدوار بھی الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔

انتخابات کیلئے 1368 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 480 پولنگ سٹیشن انتہائی حساس، 350 حساس جبکہ 457 نارمل قرار دیے گئے ہیں۔صوبہ بھر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار 780 ہے، مرد ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 3 ہزار 772 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 708 ہے۔

صوبائی انتظامیہ نے سکیورٹی کی تیاریاں بھی مکمل کر لی ہیں، الیکشن پراسیس کے دوران 15 ہزار پولیس اہلکار سکیورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے۔

گلگت بلتستان انتخابات 2026ء کے سلسلے میں 24حلقوں کے لیے ہزاروں کی تعداد میں انتخابی عملے کو ڈیوٹی پر مامور کیا گیا ہے، الیکشن ڈیوٹی پر مامور ساڑھے 7ہزار افسران اور ملازمین کے لیے 27کروڑ60لاکھ روپے اعزازیہ مقرر کیا گیا ہے، 24 حلقوں کے 24ریٹرننگ افسران کے لیے18لاکھ اعزازیہ مقرر کیا گیا ہے جب کہ اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کے لیے 12لاکھ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔

اسی طرح 24حلقوں میں تعینات 1368 پریزائڈنگ افسران کے لیے ایک کروڑ 64 لاکھ 16ہزار اعزازیہ اور 2450 اسسٹنٹ پریزائڈنگ افسران کے لیے 2 کروڑ 45 لاکھ اعزازیہ مقرر کیا گیا ہے، اسی طرح 2450پولنگ افسران کے لیے 2کروڑ 40لاکھ اعزازیہ مقرر ہوا ہے۔

الیکشن ڈیوٹی پر مامور ایل ڈی سی ،یو ڈی سی نائب قاصد سمیت 1360سرکاری ملازمین کے لیے 20کروڑ 80لاکھ روپے اعزازیہ مقرر ہوا ہے۔

دوسری جانب ضلع دیامر میں امن و امان کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے اور ڈپٹی کمشنر دیامر نے 60 روزہ پابندیوں کا حکم نامہ جاری کردیا ہے، جس کے تحت دیامر میں اسلحہ کی نمائش اور ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی ہوگی۔

حکم نامے کے مطابق پٹاخوں کے استعمال پر بھی 60 روز کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے، تمام اقسام کے ڈرونز اور یو اے ویز کی غیر مجاز پرواز بھی ممنوع قرار دی گئی ہے جب کہ ڈرون اڑانے کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا این او سی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح حساس تنصیبات کے تحفظ کے لیے سخت انتظامی اقدامات کیے گئے ہیں۔

دفعہ 144 کے احکامات نافذ العمل ہو چکے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے، شہریوں سے احکامات پر عملدرآمد کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔

مزید پڑھیں۔اسلام آباد میں منتخب حکومت قائم کرنے کی تجویز، تفصیلات سامنے آگئیں

یہ بھی پڑھیں