Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

اگست کے بلوں میں بجلی کے صارفین کو کو کتنا ریلیف مل سکتا ہے؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے اگست کے بجلی بلوں میں صارفین کو فی یونٹ 0.654 روپے (65 پیسے) کی واپسی کی تجویز دی ہے۔

اس ریلیف کی وجہ جون 2025 میں ایندھن کے اخراجات میں کمی ہے۔ یہ تجویز نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو جمع کرائی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے یہ درخواست ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (FCA) کے تحت دی ہے۔ نیپرا نے اس تجویز پر 30 جولائی کو عوامی سماعت مقرر کی ہے تاکہ جائزہ لیا جا سکے کہ یہ ریلیف اقتصادی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔

جون 2025 میں بجلی کی مجموعی پیداوار 13,744 گیگا واٹ آور (GWh) رہی جس کی اوسط لاگت 7.8698 روپے فی یونٹ رہی، یوں ایندھن کی مجموعی لاگت 108.17 ارب روپے بنی۔

ترسیل کے دوران 2.97 فیصد نقصان کے بعد صارفین کو 13,310 GWh بجلی 7.68 روپے فی یونٹ کے حساب سے فراہم کی گئی۔ اس میں سابقہ مدت کی مد میں صارفین کو دی گئی 4.83 ارب روپے کی واپسی بھی شامل ہے جو فی یونٹ 0.3516 روپے کے برابر ہے۔

مقابلتاً، جون 2024 میں بجلی کی پیداوار 13,459 GWh تھی اور فی یونٹ لاگت 8.893 روپے تھی۔ اس فرق کی وجہ سے صارفین کو موجودہ ریلیف کی بنیاد ملی ہے۔

پیداوار میں سب سے زیادہ حصہ ہائیڈرو پاور کا رہا جو 39.36 فیصد (5,410 GWh) ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 14.4 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے بعد ایل این جی سے 16.12 فیصد (2,216 GWh) بجلی پیدا کی گئی، جس کی لاگت 21.87 روپے فی یونٹ رہی۔

جون 2025 میں مقامی کوئلے سے 1,510 GWh بجلی 11.5 روپے فی یونٹ کے حساب سے پیدا کی گئی، جو پچھلے سال 1,489 GWh (11.029 روپے فی یونٹ) تھی۔

درآمدی کوئلہ سے 1,397 GWh بجلی 15.16 روپے فی یونٹ میں پیدا ہوئی جبکہ جون 2024 میں یہی پیداوار 637 GWh (15.535 روپے فی یونٹ) تھی۔

آج بروز ہفتہ19جولائی سونے قیمت بارے جانئے؟

یہ بھی پڑھیں