Search
Close this search box.
پیر ,15 جون ,2026ء

شیر افضل مروت پارٹی میں رہیں گے یا نہیں اس کا فیصلہ عمران خان کرینگے، بیرسٹر عمیر نیازی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اے بی این نیوز کے پروگرام ڈیبیٹ ایٹ8 میں میزبان قمبرزیدی نے تحریک انصاف کے سینئر رہنما بیرسٹر عمیر نیازی سےسوال کیا کہ ایک بار پھر موضوع بحث شیر افضل مروت صاحب بن گئے ہیں پہلے یہ ڈسکشن ہو ئی ہے کہ ان کو پارلیمانی کمیٹی میں کہ ان کو واپس لایا جائے ان کے تحفظات کو سنا جائے لیکن پھر سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ان کو مکمل طور پر نکال دیا گیا ہے۔

آپ کی پارٹی میں ہی ایک گروپ ایسا ہے جس میں اسد قیصر قیصر صاحب شامل ہیں شاندانہ گلزار صاحبہ شامل ہیں وہ کہتے ہیں کہ شیر افضل مروت کو سنا جانا چاہئے ان کے موقف کو سنا جائے لیکن اس کے برعکس دوسری جانب علیمہ خان گروپ اس کے خلاف ہیںآپ اس پر کیا کہنا چاہیں گے۔

جواب میں سینئر رہنما پاکستان تحریک ا نصاف بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا کہ گزشتہ جمعہ کے دن ہماری میٹنگ تھی جس میں شیر افضل مروت صاحب بھی آئے تھے اور وہاں مختلف ایم پی ایز سے بھی ملاقات ہوئی تھی لیکن جس خبر کا حوالہ دیا جارہا ہے وہاں اس قسم کی کوئی بھی بات نہیں ہوئی تھی میں کیونکہ میٹنگ سے تھوڑا جلدی نکل آیااس لئے میرےسامنے تو ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ۔

کوئی ایسے ایشو پر بات نہیں ہوئی جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہم اس وقت غیر ضروری ٹاپک کو زیر بحث لا رہے ہیں ۔ نہ سلمان راجہ صاحب نے اس چیز کا فیصلہ کیا ہے نہ ہی کسی اور سیاسی نے کہا ۔ ایک ڈائریکٹ عمران خان کی طرف سے فیصلہ آیا ہے ۔ اور اس طرح شیر افضل مروت کے لئے بہتر یہی ہے کہ عمران خان کے آنے کا انتظار کریں وہ آتے ہیں تو اگر وہ ان کو واپس لے لیتے ہیں تو پہلے بھی فیصلہ انہی کا ہی تھا اور اب بھی وہی فیصلہ کرینگے ۔

اے بی این کے پروگرام ڈیبیٹ ایٹ8 میں میزبان قمبرزیدی نے پھر سوال کیا کہ 9 مئی کے فیصلے آ رہے ہیں لوگوں کو نکالا جارہا ہے ان کی نااہلیاں ہو رہی ہیں پارٹی کی بڑی اہم آواز ہیں شیر افضل مروت صاحب آپ نہیں سمجھتے کہ پارلیمان میں اگر آپ کا ٹکٹ پر کوئی جیت کر آئے تو اس کو پارٹی میں رہنا چاہئے اس کو رہنا چاہئے اور اس کی آواز کو بھی سنا جانا چاہئے ۔

جواب میں تحریک انصاف کے سینئر رہنما بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا کہ میں اسی طرف بات لے کر آ رہا تھا کہ فیصلہ دیا کس نے ہے؟ جب چیئرمین عمران خان نے خود اس چیز کا فیصلہ کیا ہے تو ان سے اوپر تو کوئی اتھارٹی نہیں بنتی کہ جب انہوں نے سب چیزوں کو دیکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے تو میں سمجھتا ہوں ہم سب کو اس فیصلہ کو حتمی ماننا چاہیے۔

مزید پڑھیں۔چین میں ’چکن گونیا‘ کی وبا پھوٹ پڑی، ہزاروں افراد متاثر

یہ بھی پڑھیں