اسلام آباد:
وفاقی آئینی عدالت نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد خود کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت قرار دینے کا مؤقف برقرار رکھا ہے، جس کے باعث عدالتی اختیارات پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
منگل کو سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ایک وکیل کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا، کیونکہ وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وکلاء عدالت کو ترجیح نہ دیں تو مقدمہ خارج کیا جاسکتا ہے۔
وکلاء کے مطابق اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دونوں عدالتوں میں ایک ہی دن مقدمات مقرر ہوتے ہیں جس سے عملی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے حل کیلئے اعلیٰ عدالتی سطح پر رہنمائی ضروری ہے۔
عدالت نے اپنے مختلف فیصلوں میں قرار دیا ہے کہ اس کے فیصلے ملک کی تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے۔ عدالت کے مطابق آئینی ترمیم کے بعد عدالتی اختیارات کی تقسیم میں تبدیلی آئی ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے بھی اپنے ریمارکس میں کہا کہ موجودہ آئینی نظام کے تحت قوانین کو آئینی بنیاد پر کالعدم قرار دینے کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں رہا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں عدالتوں کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی احترام عدالتی نظام کے استحکام کیلئے ضروری ہے۔




