اسلام آباد میں ایک پاکستانی اسکریپ دھات فنکار پرانے گاڑیوں کے پرزوں سے بڑے مجسمے بنا کر توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اس کا تازہ شاہکار اوپٹیمس پرائم کا چودہ فٹ اونچا مجسمہ ہے۔
فنکار احتشام جدون کی عمر پینتیس سال ہے۔ وہ کباڑی بازاروں سے زنجیریں، گیئر اور انجن کے حصے جمع کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ کئی ماہ محنت کر کے یہ مجسمہ مکمل کیا۔
انہوں نے موٹر سائیکل کے اسپرنگ سے بازو بنائے۔ گاڑیوں کے رم سے کندھے تیار کیے گئے۔ اسی طرح زنجیروں اور دیگر پرزوں سے ٹانگیں بنائی گئیں۔

احتشام جدون نے باقاعدہ فن کی تعلیم حاصل نہیں کی۔ وہ پہلے اسٹیل کا کام کرتے تھے۔ وہ اپنے تخیل اور تجربے سے دھات کو نئی شکل دیتے ہیں۔
یہ پاکستانی اسکریپ دھات فنکار باقاعدگی سے کباڑی مارکیٹ جاتا ہے۔ کباڑی فروشوں کے مطابق جو چیزیں بے کار ہوتی ہیں وہ ان کے ہاتھ میں قیمتی فن بن جاتی ہیں۔
ان کی ورکشاپ میں شیر اور ڈائناسور کے بڑے مجسمے بھی موجود ہیں۔ یہ ان کی مہارت اور محنت کا ثبوت ہیں۔
ََ




