لاہور(نیوزڈیسک) پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان پنجاب میں اقتدار کی تقسیم کے فارمولے پرتاحال اتفاق نہ ہوسکا ۔ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کی صوبائی رابطہ کمیٹیوں کے چار اجلاس ہونے کے باوجود کوئی پیشرفت سامنے نہ آسکی۔
ذرائع نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کا الزام ہے کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں پاور شیئرنگ فارمولے کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ پنجاب اسمبلی میں اس کے اراکین کو بجٹ میں نظر انداز کیا جا رہا ہے اور انہیں ابھی تک فنڈز نہیں ملے۔قبل ازیں ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ مسلم لیگ ن پی پی پی پر مرکز میں مخلوط حکومت میں شامل ہونے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے۔
جناح ایئرلائنزکی کراچی ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ ،مسافر بال بال بچ گئے
ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ نے براہ راست اور باہمی دوستوں کے ذریعے رابطہ کرکے پیپلزپارٹی کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔پیپلزپارٹی کو وفاقی اور پنجاب حکومت میں بطور اتحادی شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے اس پیشکش پر حکومت کو کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی پارٹی نے اس معاملے پر مشاورت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر حکومت میں شمولیت کے لیے دباؤ ہے۔ سندھ سے پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ حکومت میں شامل ہونے کی حمایت کر رہے ہیں۔تاہم، سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر پارٹی رہنما نے اس پیشکش کی سختی سے مخالفت کی ہے اور پارٹی کی قیادت کو اپنی رائے سے آگاہ کیا ہے۔پیپلز پارٹی پنجاب کی قیادت نے مرکز کے بجائے پنجاب میں حکومت میں شامل ہونے کی رائے دی۔ ذرائع نے بتایا کہ پنجاب حکومت میں شمولیت سے پیپلز پارٹی صوبے میں مضبوط ہوگی۔


