لاہور(نیوز ڈیسک)جیلوں میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے حالیہ احتجاجی تحریک کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ پارٹی کے بانی عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ’اسلام آباد قتل عام‘ کے نام سے پیغام میں 26 نومبر کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا گیا ہے۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے پی ٹی آئی کے فائنل کال کے دوران مظاہرین کو اسلام آباد کے ڈی چوک سے دھکیلنے کے لیے آپریشن کیا جس کے بعد احتجاجی تحریک اچانک معطل کردی گئی تھی۔تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اسلام آباد سے مانسہرہ پہنچنے کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ ’ڈی چوک پر ہمارا دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک بانی چیئرمین عمران خان اسے ختم کرنے کا نہیں کہتے‘۔
کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، سینیٹر اعجاز چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ اور دیگر نے میڈیا کے نمائندوں کو ایک لکھے گئے ایک خط میں احتجاجی تحریک معطل کرنے کا مطالبہ کیا اور پارٹی قیادت پر زور دیا کہ وہ ملک گیر سوگ کا اعلان کرے۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تعزیتی اجلاس منعقد کیے جائیں جب کہ پارٹی رہنما سوگوار خاندانوں کے گھر تعزیت کے لیے جائیں اور ڈی چوک کے شہدا کی قبروں پر فاتحہ خوانی کریں۔انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ اسلام آباد میں ہونے والے قتل عام کی تفصیلات ’پوری طاقت کے ساتھ سوشل میڈیا‘ کے ذریعے لوگوں کے ساتھ شیئر کی جائیں۔جیلوں میں قید رہنماؤں نے یہ بھی تجویز دی کہ عمران خان کی منظوری کے بعد پارٹی سوگوار خاندانوں کے لیے شہدا فنڈ قائم کرے۔
عمران خان کے حوالے سے اہم خبر آگئی ،عدالت نے بڑا فیصلہ دیدیا



