حافظ آباد(نیوز ڈیسک)حافظ آباد میں دیرینہ دشمنی پر مخالفین نے کار پر فائرنگ کرکے پولیس اہلکار سمیت 3 افراد کو قتل کرنے کے بعد لاشیں جلادیں، آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او حافظ آباد سے فوری رپورٹ طلب کرکے ملزمان کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔
اسد اللہ پور کے قریب گھات لگائے مخالفین نے کار پرفائرنگ کی، فائرنگ کے نتیجے میں کار سوار سرکاری ملازم سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔
ملزمان نے قتل کرنے کے بعد مقتولین کی لاشیں جلادیں، پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں محمد حسین اور ان کا بھتیجا عثمان اور پولیس کانسٹیبل شہزاد شامل ہے۔
مقتول شہزاد حسن حال ہی میں پولیس فورس سے پیرا فورس میں منتقل ہوا تھا، فائرنگ کے بعد ملزمان نے گاڑی کو نذرِ آتش کیا، جس سے لاشیں اس قدر جھلس گئیں کہ شناخت کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، پولیس نے لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے سرکاری ہسپتال منتقل کر دیا۔
ترجمان پولیس حافظ آباد ارسلان حسن کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ تہرہ قتل دیرینہ دشمنی کا نتیجہ ہے، فریقیں میں قتل کی وجہ سے کشیدگی تھی، حملہ انتقام کے طور پر کیا گیا اور ملزمان واقعے کے بعد فرار ہو گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ ونیکے تارڑ کی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور مدعی محمد عنایت کی شکایت پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302 (قتل)، 201 (جرم چھپانے کی کوشش)، 436 (آگ زنی)، 109 (معاونت جرم)، 148 (ہتھیار کے ساتھ فساد)، اور 149 (گروہی جرم) کے تحت مقدمہ نمبر 647/25 درج کرلیا، مقدمے میں 8 نامزد اور 4 نامعلوم ملزمان سمیت کل 12 افراد کو شامل ہے، جن میں ایک خاتون ملزمہ بھی شامل ہے۔
مزید پڑھیں:ذاتی زندگی پر تنقید کے خلاف طوبیٰ انور پھٹ پڑیں


