اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بیرون ملک سے آئی ہوئی مونکی پوکیس کی اذیت ناک مرض لاہور میں وبا کی صورت اختیار کر کے پھیل چکی ہے اور لہوریئے وبا کے خطرے سے بے خبر ہمیشہ کی طرح بے فکری سے جی رہے ہیں۔
آج منگل کی شام تک صرف لاہور میں مونکی پوکس کے سات کنفرم کیس رپورٹ ہو چکے ہیں، صرف آج کے دن مزید دو مریضوں میں مونکی پوکس کنفرم ہوا ہے۔ اس سے وبا کے پھیلنے کی سنگین صورتحال کی پوری تصویر سامنے آ چکی ہے لیکن نہ تو صحت کے حکام نہ ہی میڈیا آؤٹ لیتس اپنے طور پر لاہور کے عوام کو اس اذیت ناک مرض کے وبائی سورت اختیار کر چکنے کے متعلق آگاہ کر رہے ہیں۔ احتیاطی تدابیر کا عوام وک پتہ ہی نہیں اور نہ خطرے کا علم ہے اس لئے لاہور میں زندگی عین اسی طرح چل رہی ہے جیسے ہمیشہ ہوتی ہے۔ لاہویئے اپنے بال بچوں کے ساتھ کسی احتیاط کے بغیر بے فکری سے جی رہے ہیں۔آج لاہور کے سب سے برے ہسپتال میو ہاسپٹل میں ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد مونکی پاکس کےمزید2مریض کنفرم ہو گئے۔
23سالہ عنیب اور2سالہ ہمدان کے ٹیسٹ ہوئے تو ان مین مونکی پوکس وائرس پایا گیا، دونوں کو جسم پر موٹے آبلے نمایاں ہونے کے بعد ہسپتال لایا گیا جب ان کے جسموں مین وائرس پوری طرح پھیل چکا ہے۔
منکی پاکس میں مبتلاپائےگئے، دونوں مریضوں کا میو ہسپتال میں مکمل علیحدگی میں رکھ کر علاج کیا جا رہا ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ لاہور میں آج منگل کی شام کیا صورتحال ہے۔ لاہور میں صحت کے حکام نے مونکی پوکس کے تصدیق شدہ کیسز میں اضافے کی اطلاع دی ہے، سرکاری ہسپتالوں نے حال ہی میں متعدد مریضوں کی تشخیص کی ہے۔
حالیہ کلسٹر
مقامی ہسپتال کے ذرائع کے مطابق، لاہور میں بندر پاکس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد تقریباً 7 تک پہنچ گئی ہے، جن میں مزید مشتبہ کیسز زیر جانچ ہیں۔ تمام تصدیق شدہ مریض تنہائی میں ہیں اور طبی مشاہدے میں ہیں، اور رابطے کا پتہ لگانے کا کام جاری ہے۔
2025 کے پہلے تصدیق شدہ کیس
2025 کے دوران لاہور میں مونکی پوکس کا پہلا کنفرم کیس ستمبر میں لاہور جنرل ہسپتال میں ریکارڈ کیا گیا، جب مونکی پوکس کی کلاسک علامات والے مریض کا ٹیسٹ مثبت آیا اور اسے فوراً باقی مریضوں سے الگ تھلگ کر دیا گیا۔ اس کیس کے سامنے آنے سے بہت پہلے مونکی پوکس کے پاکستان پہنچ جانے کی تصدیق ہو چکی تھی لیکن اس داخلہ کے مقام پر ہی روکنے میں صحت کے حکام کامیاب نہیں ہوئے، اب ستمبر میں لاہور میں مونکی پوکس کا وائس پہنچ جانے کی تصدیق ہو گئی تب لاہور کے صحت حکام اور میڈیا نے غفلت کی اور اس کو پھیلنے سے روکنے کی تدابیر میں اپنے اپنے حصہ کا کردار ادا کرنے سے قاصر رہے، اس کا نتیجہ آج منگل 23 دسمبر کو یہ ہے کہ چند دنوں میں مونکی پوکس کے کئی کیس سامنے آ گئے، صرف آج دو نئے کیس میو ہسپتال پہنچے جہاں پہلے بھی کنفرم مریض زیر علاج ہیں۔
ہسپتال آخر کار ہائی الرٹ پر آ گئے

لاہور میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے ہسپتالوں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے، بتایا جا رہا ہے کہ ” سکریننگ کو” تیز “کر دیا ہے” اور انفیکشن کنٹرول کے معیاری طریقہ کار کو لاگو کر رہے ہیں۔
لاہور سے روزانہ لاکھوں افراد پنجاب کے تمام شہروں اور دیہات میں سفر کر رہے ہیں۔ شہر سے باہر جانے والوں کی سکریننگ کا کوئی اہتمام نہیں اور صونبے کے دوسرے شہروں خاص طور سے چھوٹے ہسپتالوں میں مونکی پوکس کے سلسلہ میں کوئی خاص سرگرمی آج منگل کی شام تک سامنے نہیں آئی۔

پاکستان کے دیگر حصوں میں Mpox
پاکستان نے پچھلے کچھ سالوں میں بمونکی پوکس کے کئی کیسز دیکھے ہیں، ان تمام کیسوں کا تعلق ابتدائی طور پر بیرون ملک سے سفر کر کے آنے والوں سے جوڑا گیا۔
خیبر پختونخواہ (KP) میں مونکی پوکس کی موجودگی
2024-2025 کے دوران کے پی میں متعدد کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں کچھ مقامی طور پر منتقل ہونے والے واقعات بھی شامل ہیں- یعنی ٹرانسمیشن بیرون ملک سے آنے والے کسی فرد کی بجائے کمیونٹی کے اندر ہوئی ہے۔
سندھ (کراچی)
سندھ میں پہلا رپورٹ ہونے والا کیس کراچی میں تھا، جہاں ٹریول ہسٹری والے مریض کو مونکی پوکس ہو گیا تھا اور اسے الگ تھلگ کر دیا گیا تھا۔ یہ ممکنہ طور پر حالیہ وبا کے سلسلہ میں پاکستان مین ڈیٹیکٹ ہونے والا پہلا کیس تھا۔
آزاد جموں و کشمیر
آزاد کشمیر کے حکام نے حال ہی میں پہلی بار بندر پاکس کے کیسز کی تصدیق کی، اور ہنگامی اقدامات بشمول علیحدہ وارڈز اور مائیکرو کنٹینمنٹ کے اقدامات شروع کیے گئے۔
پاکستان میں mpox پر تھوڑا سا پس منظر
پاکستان میں مونکی پوکس کا پہلا کیس 2023 میں بیرون ملک سے آنے والے مسافر میں رپورٹ ہوا اور لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے اس کی تصدیق ہوئی۔
اس کے بعد سے، پاکستان نے مختلف علاقوں میں کئی کیسز (تقریباً 10-11) مختلف علاقوں میں ریکارڈ کیے ہیں، جس سے صحت عامہ کے انتباہات اور اسکریننگ، خاص طور پر ہوائی اڈوں اور سرحدوں سے پاکستان میں داخل ہونے کے مقامات پر نگرانی اور سکریننگ کی ضرورت زیادہ شدت سے محسوس کی گئی تاہم اس سے یہ مرض پاکستان مین پھیلنا رکا نہیں۔
مونکی پوکس mpox کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے
مونکی پوکس Monkeypox (mpox) ایک زونوٹک وائرس ہے (یہ جانوروں سے انسانوں میں چھلانگ لگا سکتا ہے) جو آرتھوپوکس وائرس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ عام طور پر انسانوں میں پہنچ کر جسم کے اندر پھیلنے کے بعد کئی پیچیدہ علامات کا سبب بنتا ہے:
فلو جیسی علامات (بخار، سر درد، تھکاوٹ) پیدا ہوتی ہیں جن کو لوگ لاعلمی کے باعث صرف فلو جیسی علامات ہی سمجھتے ہیں۔
اس دوران وائرس جسم کے اندر مزید بڑھتا جاتا ہے اور متاثرہ افراد بے خبر رہتے ہیں۔
پھر جسم کی جلد پر پھوڑے نمودار ہوتے ہیں تو متاثرہ شخس اور لواحقین آگاہ ہوتے ہیں کہ کچھ عجیب ہو رہا ہے۔
پھوڑے چہرے، ہاتھوں یا جسم پر ظاہر ہو سکتے ہیں۔

مونکی پوکس کے پھوڑے کیسے ہوتے ہیں
مونکی پوکس وائرس کا پیدا کیا ہوا پھوڑا ( پسٹول)جلد پر ایک چھوٹا، ابھرا ہوا بظاہر آبلہ سا ہوتا ہے جو پیپ سے بھرا ہوا ہے۔ جب کوئی انفیکشن فعال ہو تو اسے جسم کی طرف سے خطرے کی گھنٹی سمجھیں۔
ایک مونکی پوکس پھوڑا کیسا نظر آتا ہے؟ یہ گول یا بیضوی ہو تا ہے، نصف سینٹی میٹر سے ایک سنیٹی میٹر تک ہو سکتا ہے اور قریب قریب بہت سے پھوڑے ہو سکتے ہیں۔
یہ پھوڑا بنیاد پر سرخ یا سوجن زدہ نظر آتا ہے۔ اس کا مرکز سفید، پیلا، یا کریم رنگ کا نظر آتا ہے کیونکہ اس میں پِیپ بھری ہوتی ہے۔
مونکی پوکس کا پھوڑا چھونے میں نرم مھسوس ہوتا ہے اور چھونے سے تکلیف ہوتی ہے۔
مونکی پوکس mpox (monkeypox) میں، آبلے ایک اہم علامت ہیں۔ وہ عام طور پر بخار اور جسم میں درد کے بعد ظاہر ہوتے ہیں اور سست رفتار میٹامورفوسس جیسے مراحل سے گزرتے ہیں:
1️⃣ چپٹے دھبے (میکولس)
2️⃣ جلد پر ابھرے ہوئے دانے (پیپولس)
3️⃣ پیپ سے بھرے دھبے/ پھوڑے (پسٹولز)
4️⃣ خارش اور شفاء
مونکی پوکس ایم پی اوکس کے آبلوں میں وائرس ہوتا ہے
ان پھوڑوں اور آبلوں میں فعال وائرس ہوتا ہے، لہذا براہ راست رابطے سے انفیکشن پھیل سکتا ہے۔
یہ پھوڑے اور آبلے اکثر چہرے، ہاتھوں، پیروں، منہ، یا جنسی اعضاء پر ظاہر ہوتے ہیں۔
چہرے کے مہاسوں کے برعکس، ایم پی اوکس پسٹولز مضبوط، گہرے بیٹھے، اور سب ایک جیسے مرحلے پر ہوتے ہیں۔

وبا پھیلنے سے بچنے کیلئےاہم انتباہ
???? ایک آبلہ کو کبھی نہ پھوڑیں۔
ایسا کرنے سے:
آپ خود وائرس کو پھیلاتے ہیں
مریض کی شفا یابی میں تاخیر ہوتی ہے۔ آبلے کا زخم ثانوی بیکٹیریل انفیکشن کا سبب بن جاتا ہے۔ آبلے کا نشان بھی پڑ جاتا ہے۔
طبی مدد اور پروفیشنل دیکھ بھال کب حاصل کی جائے۔
اگر کسی کو بخار کے ساتھ جسم پر دانے، پھوڑے نظر آئیں پھوڑوں، آبلوں پر خٓرش ہوتی ہو تو انہیں فوری طبی مدد کی ضرورت ہے جو صرف ٹیسٹ کی سہولت مہیا کرنے والے اور آئسولیشن وارڈز رکھنے والے ہسپتالوں میں ملتی ہے۔
اگر کسی کو مونکی پوکس سے متاثر کسی مریض کے ساتھ رہنا پڑا کسی متاثرہ شخص کے ساتھ حالیہ قریبی رابطہ رہا یا وبا سے متاثرہ علاقے کا سفر کر کے آئے تو انہیں فوری طور پر الگ تھلگ رہنا چاہئے اور کسی سرکاری ہسپتال یا متعدی بیماری کے یونٹ سے رابطہ کرنا چاہئے۔
مونکی پوکس کیسے پھیلتا ہے؟؟
بنیادی طور پر یہ وائرس قریبی جسمانی رابطے، سانس کے ساتھ (چھینک وغیرہ) کی بوندوں، یا وائرس زدہ شخص کا آلودہ مواد (جیسے بستر، لباس وغیرہ) سے پھیلتا ہے۔ انسان سے انسان میں منتقلی کے لیے عام طور پر طویل وقت کے قریبی رابطے کی ضرورت ہوتی ہے۔
مونکی پوکس کا علاج
مونکی پوکس کا شکار ہو جانے والے زیادہ تر لوگ 2-4 ہفتوں میں صحت یاب ہو جاتے ہیں، اور جب کہ اس دوران پیچیدگیاں بھی ہو سکتی ہیں، اس وقت عالمی سطح پر گردش کرنے والے کلیڈز کے ساتھ اموات غیر معمولی ہیں۔
پنجاب میں حکام کیا کر رہے ہیں
آج شام تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے تمام ہسپتالوں میں تمام عملہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے یعنی انہیں وائرس سے متاثر افراد کے ہسپتالوں تک آنے کا شدید خدشہ ہے۔ ہسپتالوں میں ممکنہ متاثرین کو ہیلتھ پروفیشنل از خود دیکھ رہے ہیں کہ انہیں مونکی پوکس ہونے کا امکان تو نہیں۔ اس کے ساتھ حکام ہسپتالوں مین جو کر رہے ہیں وہ یہ ہے:
✔ تصدیق شدہ کیسز کو الگ تھلگ کرنا
✔ مریضوں کانٹیکٹ ٹریسنگ
✔ ہوائی اڈوں اور سرحدوں سے داخلے کے مقامات پر بہتر سکریننگ
✔ صحت عامہ کے انتباہات اور ہسپتالوں کی اس مرض کا علاج کرنے کے لئے تیاری۔
صورتحال کنٹرول میں ہے
لاہور میں سامنے آنے والے کیسوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود، حکام احتیاطی تدابیر کے ساتھ صورتحال کو نگرانی اور کنٹرول میں قرار دے رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:ٹیم پاکستان سے کیوں ہاری؟ بھارتی کرکٹ بورڈ کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا
