شدید گرمی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث دنیا بھر میں ہیٹ ویو کے خطرات بڑھ رہے ہیں، ایسے میں ہیٹ اسٹروک کی علامات کو بروقت پہچاننا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق ہیٹ اسٹروک اس وقت ہوتا ہے جب جسم اپنا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے اور جسمانی حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق گرمی سے متعلق بیماریوں میں ہیٹ اسٹروک سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ ابتدائی علامات کو عام تھکن یا پانی کی کمی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی لاپروائی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر مسلسل سر درد، شدید کمزوری، بخار، قے، چکر آنا یا بے ہوشی جیسی کیفیت محسوس ہو تو فوری احتیاط کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا جائے، جلد گرم اور خشک محسوس ہو، دل کی دھڑکن تیز ہوجائے اور پٹھوں میں درد شروع ہو جائے تو یہ خطرناک صورتحال کی علامت ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں فوری طور پر ٹھنڈی جگہ منتقل ہونا اور طبی امداد لینا ضروری ہے۔
ہیٹ اسٹروک کی علامات بچوں، بزرگوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد میں زیادہ شدت اختیار کرسکتی ہیں۔ دل کے مریض، ذیابیطس کے شکار افراد اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدور شدید گرمی سے جلد متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ دھوپ میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں، زیادہ پانی پئیں، ہلکے رنگ کے کپڑے استعمال کریں اور جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کریں تاکہ ہیٹ اسٹروک سے محفوظ رہا جا سکے۔
