شدید گرمی اور ناقص دیکھ بھال کے باعث قربانی کے جانوروں میں بیماریاں تیزی سے پھیلنے لگی ہیں، جس کے بعد لاہور سمیت مختلف شہروں میں ویٹرنری اسپتالوں میں بیمار مویشیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ ماہرین نے شہریوں کو جانوروں کی خوراک اور صفائی سے متعلق احتیاط برتنے کی ہدایت کردی۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران لاہور کے سرکاری ویٹرنری اسپتال میں ساڑھے 3 ہزار سے زائد جانور علاج کے لیے لائے گئے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ روزانہ تقریباً 250 چھوٹے اور بڑے مویشی ایمرجنسی میں پہنچ رہے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق جانور نزلہ، زکام، بخار، کھانسی، ڈائریا اور چچڑ جیسی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرم موسم کے ساتھ ساتھ شہریوں کی لاپرواہی بھی صورتحال خراب کر رہی ہے۔
ویٹرنری ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ جانوروں کو تنگ جگہوں پر رکھنا اور بیمار مویشیوں کے ساتھ باندھنا بیماریوں کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ بن رہا ہے۔ اس کے علاوہ جانوروں کو چارے کے بجائے برگر، پیزا، روٹیاں اور تربوز کھلانے سے بھی صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ منڈی سے جانور خریدتے وقت ان کے جسم اور کانوں کو اچھی طرح چیک کریں تاکہ چچڑ یا جلدی بیماریوں کی بروقت نشاندہی ہوسکے۔ دوسری جانب اسپتال انتظامیہ کے مطابق قربانی کے جانوروں میں بیماریاں بڑھنے کے باعث 24 گھنٹے مفت علاج اور ایمبولینس کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔