Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ہنٹا وائرس کا خطرہ، عالمی ادارہ صحت کا 12 ممالک کیلئے الرٹ جاری

عالمی ادارہ صحت نے ہنٹا وائرس (Orthohantavirus)کے ممکنہ پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر دنیا کے 12 ممالک کے لیے الرٹ جاری کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہنٹا وائرس کے چند کیسز ایک بین الاقوامی کروز شپ سے منسلک پائے گئے ہیں، جہاں سفر کرنے والے بعض مسافر علامات ظاہر ہونے سے قبل مختلف ممالک روانہ ہو گئے تھے۔ اس صورتحال کے بعد وائرس کے ممکنہ عالمی پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب تک ہنٹا وائرس کے 5 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 8 افراد میں شدید سانس کی بیماری کی علامات سامنے آئی ہیں۔ متاثرہ یا زیر نگرانی ممالک میں ترکیہ، کینیڈا، جرمنی، برطانیہ اور امریکا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

ادارے کے حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد اور ان کے قریبی رابطوں کی نگرانی جاری ہے، جبکہ بروقت احتیاطی اقدامات کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ تاہم مزید کیسز سامنے آنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

ہنٹا وائرس کیا ہے؟

ہنٹا وائرس ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو عموماً چوہوں اور دیگر چوہا نما جانوروں کے فضلے، پیشاب یا تھوک کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ وائرس آلودہ ذرات کے ذریعے سانس کے راستے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔

علامات کیا ہیں؟

ماہرین کے مطابق اس بیماری کی ابتدائی علامات میں:

تیز بخار
شدید تھکن
پٹھوں میں درد
سر درد
متلی
کھانسی
سانس لینے میں دشواری

شامل ہو سکتی ہیں۔ سنگین صورت میں یہ وائرس پھیپھڑوں کی شدید بیماری کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

علاج اور احتیاط

ماہرین کے مطابق فی الحال ہنٹا وائرس کے لیے کوئی مخصوص ویکسین یا مکمل علاج دستیاب نہیں، تاہم بروقت طبی امداد اور نگہداشت سے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر میں:

گھروں اور گوداموں میں صفائی کا خاص خیال رکھنا
چوہوں سے بچاؤ کے اقدامات کرنا
آلودہ جگہوں کی صفائی کے دوران ماسک اور دستانے استعمال کرنا
بیمار افراد سے غیر ضروری قریبی رابطے سے گریز کرنا

شامل ہیں۔

عالمی صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نگرانی اور حفاظتی اقدامات مؤثر انداز میں جاری رکھے گئے تو وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں