کراچی(نیوز ڈیسک)پاکستانی ڈراما ‘کبھی میں کبھی تم’ ناظرین کے دل جیتتے ہوئے ٹی آر پیز اور ویوز کے تمام ریکارڈز بریک کرتا نظر آرہا ہے۔
یہ ڈرامہ فہد مصطفی کا ایک کامیاب ٹیلی ویژن کم بیک ثابت ہوا جبکہ ہانیہ عامر اس ڈرامے میں نبھائے گئے اپنے کردار ‘شرجینا’ کے سبب ہر دل میں اپنا خاص مقام بنا چکی ہیں۔
جہاں اس ڈرامے کے اندر کچھ دل میں گھر کرنے والے کردار ہیں وہیں کچھ منفی کردار بھی ہیں اور ان دونوں کرداروں کے ملاپ کے بعد بننے والا ہے یہ ڈرامہ بہت شوق سے دیکھا جا رہا ہے۔
‘کبھی میں کبھی تم’ کی کامیابی کے پیچھے بدر محمود کا ہاتھ ہے جنہیں اپنے ڈرامے ‘مجھے پیار ہوا تھا’ کی بے وجہ کھنچنے والی کہانی کے سبب تنقید کا سامنا تھا، اب اپنے اس نئے ڈرامے کی وجہ سے لوگوں سے تعریف کے ٹوکرے سمیٹ رہے ہیں۔
حال ہی میں بدر محمود نے ملیحہ رحمان کے شو میں بطور مہمان شرکت کی اور ڈرامے کے حوالے سے متعدد انکشافات کیے۔
انہوں نے بتایا کہ ‘ڈرامے کی کہانی لکھنے والی فرحت اشتیاق نے اپنی اسکرپٹ دینے کے بعد ڈرامے میں دو کرداروں کو نبھانے کے لیے اداکاروں کے نام خود دیے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ‘فرحت اشتیاق کو شرجینا کا کردار نبھانے کے لیے ہانیہ عامر جبکہ عدیل کا کردار نبھانے کے لیے عماد عرفانی چاہیے تھے اور یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں اپنے پسندیدہ فنکار مل گئے’۔
بدر محمود نے ڈرامے کے لیے شوٹ ہوئے کچھ ایسے سینز کا ذکر کیا جن پر پاکستان سینسر بورڈ کی جانب سے پابندی لگائی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ‘قسط نمبر 25 میں ایک سین تھا جس میں فہد مصطفی کے کندھے پر ہانیہ عامر کو لیٹے دکھایا گیا اور اس سین پر سینسر بورڈ کی جانب سے اعتراض کیا گیا’۔
انہوں نے بتایا کہ ‘میں نے اس سین کو کٹ کرتے ہوئے سین پورا دکھانے کے بجائے فریم چھوٹا کر دیا جس سے اعتراض کی وجہ بننے والا سبب ختم ہو گیا’۔
بدر محمود نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ‘ڈرامے میں یہ سین میاں بیوی کے درمیان دکھایا جا رہا ہے اور اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سینسر بورڈ کو کچھ چیزیں چھوڑ دینی چاہیں کیونکہ ہم گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کے ریلیشنشپ نہیں بلکہ میاں بیوی کے درمیان محبت کا رشتہ دکھانا چاہ رہے ہیں’۔
مزیدپڑھیں :ٹاٹا کی آخری رسومات میں ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی یکجا کیوں؟

