بالی وڈ فلمی دنیا میں کئی فنکار ایسے ہیں جنکے والدین تو مختلف پیشے سے وابستہ ہیں لیکن انکے بچوں نے بنا کسی اقرباپروری کا سہارا لیے فلمی دنیا میں قدم رکھتے ہی ترقی کی منزلیں طے کرلیں۔
اور ان اسٹار کڈز کا یہ مقام اور مرتبہ صرف بالی وڈ تک ہی محدود نہ رکھا بلکہ دیگر فلم انڈسٹری میں بھی انہوں نے اپنے فن کے ایسے جوہر دکھائے کہ آج انکا نام بچے بچے کی زبان پر ہے۔
جی ہاں آج ہم بات کرنے جارہے ہیں بالی وڈ اور ہالی وڈ میں یکساں مقبولیت کی حامل اداکارہ پریانکا چوپڑا کی جنہوں نے یہ ثابت کردیا کہ اپنی محنت کے بل بوتے بھی انڈسٹری میں نام کمایا جاسکتا ہے۔
اداکارہ پریانکا چوپڑا کی پیدائش 18 جولائی 1982 جمشید پور، بہار (موجودہ جھارکھنڈ) میں رہائش پذیر ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جنکا تعلق بھارتی فوج سے تھا۔
پریانکا کے والدین اشوک اور مدھو چوپڑابھارتی فوج میں بطور معالج اپنے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ پریانکا کے والد ایک پنجابی ہندو تھے جو امبالہ سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ ان کی والدہ جھارکھنڈ کی بہاری-مگاہی ہندو ہیں۔ علاوہ ازیں اداکارہ کا ایک بھائی سدھارتھ بھی ہے جو ان سے عمر میں تقریباً 7 سال چھوٹا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ پریانکا کے والدین کے فوجی معالج ہونے کی وجہ سے ان کا خاندان بھارت کے کئی شہروں میں تعینات رہا، جن میں دہلی، چندی گڑھ، امبالہ، لداخ، لکھنؤ، بریلی، اور پونے شامل ہیں۔
فوجی گھرانے میں آنکھ کھولنے والی پریانکا نے ابتدائی تعلیم لکھنؤ کے لا مارٹینیر گرلز اسکول سے حاصل کی بعدازاں انہوں نے اعلیٰ تعلیم کیلئے بریلی کے سینٹ ماریا گوریٹی کالج میں داخلہ لے لیا۔
پھر 13 سال کی عمر میں وہ تعلیم کے لیے امریکہ منتقل ہو گئیں، جہاں انہوں نے اپنی خالہ کے ساتھ رہتے ہوئے نامور اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ جسکے بعد پریانکا نے کئی تھیٹر پروڈکشنز میں بھی حصہ لیا اور ویسٹرن کلاسیکل موسیقی اور کورل سنگنگ کی تعلیم حاصل کی۔
ایک انٹرویو میں پریانکا بتاتی ہیں کہ ’انہیں اکثر سفر کرنے اور اسکول تبدیل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا، بلکہ وہ اسے ایک نئے تجربے کے طور پر دیکھتی تھیں اور بھارت کے کثیرالثقافتی معاشرے کو دریافت کرنے کا موقع سمجھتی تھیں۔’
پریانکا اپنے بچپن کا احوال سناتے ہوئے مزید بتاتی ہیں کہ،’جب میں چوتھی جماعت میں تھی تو میں لداخ میں تھی تو میرے بھائی کی پیدائش ہوئی اور اس وقت میرے والد فوج میں تعینات تھے۔ ہم لداخ میں ایک سال رہے اسی لیے میری اس جگہ کی یادیں شاندار ہیں’۔
ایسا ہی کچھ پریانکا کے ساتھ بھی ہوا جب تین سال بعد پریانکا واپس بھارت آئیں اور بریلی کے آرمی پبلک اسکول سے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی تو اسی عرصے کے دوران پریانکا چوپڑا نے مقامی بیوٹی پیجینٹ کا سہرا اپنے سر سجا لیا۔
یہ اعزاز اپنے نام کرنے کی دیر تھی کہ پریانکا کی شہرت میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا اور مداحوں کی فہرست دیکھتے ہی دیکھتے بڑھتی چلی گئی۔
بیٹی کی شہرت نے والدین کو اس قدر خوفزدہ کردیا کہ بعد میں پریانکا کے گھر والوں نے بیٹی کی حفاظت کے لیے گھر میں سلاخیں لگوالیں۔
لیکن شہرت اور نام کمانا بھی تو ضروری تھا، پھر کچھ ایسا ہوا کہ ان کی والدہ نے بیٹی کے شوق کو پورا کرتے ہوئے انہیں 2000 کے ’فیمینا مس انڈیا’ مقابلے میں داخل کروایا جہاں پریانکا دوسرے نمبر پر آئیں اور ’فیمینا مس انڈیا ورلڈ’ کا خطاب بھی اپنے نام کرلیا۔
بس پھر کیا تھا شہرت نے تو جیسے انکا ہاتھ ہی تھام لیا دیکھتے ہی دیکھتے پریانکا نے ’مس ورلڈ’ مقابلہ جیتا، جہاں انہیں 30 نومبر 2000 کو لندن ’ مس ورلڈ ’ اور ’مس ورلڈ کانٹینینٹل کوئین آف بیوٹی – ایشیا اینڈ اوشینیا’ کا تاج پہنایا گیا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سال پریانکا چوپڑا ’مس ورلڈ’ کا خطاب جیتنے والی پانچویں بھارتی شہری تھیں اور سات سال کے اندر یہ اعزاز جیتنے والی چوتھی بھارتی خاتون بھی بن گئیں۔


