غزہ (انٹرنیشنل ڈیسک)غزہ کی پٹی سے باہر رہنے والے فلسطینیوں نے جنگ و تباہی کے باوجود اپنے خواب اور امیدیں برقرار رکھی ہوئی ہیں۔
نادین ایوب پہلی فلسطینی ہیں جو مس یونیورس مقابلہ حسن میں حصہ لے رہی ہیں، انھوں نے کہا کہ وہ دنیا تک یہ پیغام پہنچانا چاہتی ہیں کہ فلسطینی صرف دکھ سہنے والے لوگ نہیں بلکہ ان کے اپنے خواب، امنگیں اور مضبوط شناخت بھی ہے۔
“ہم زندگی چاہتے ہیں”
غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کے 23 ماہ سے زائد عرصے کے باوجود 27 سالہ نوجوان پہلی بار “مس فلسطین” کا تاج پہننے کی تیاری کر رہی ہیں، جو نومبر میں تھائی لینڈ میں منعقد ہونے والے مقابلے کی تاریخ میں پہلی بار ہو گا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نادین ایوب نے کہا کہ فلسطینی صرف جدوجہد اور مشکلات کا شکار نہیں، بلکہ ان کے بچے زندگی چاہتے ہیں اور خواتین کے بھی اپنے خواب اور امنگیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنی شرکت کے ذریعے اپنی زمین کی خوبصورتی، ثقافتی ورثے کی دولت اور سب سے بڑھ کر اپنے لوگوں کی انسانی تصویر کو اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔
پر عزم فلسطینی دوشیزہ نادین ایوب نے وضاحت کہ وہ مغربی کنارے، امریکہ اور کینیڈا میں پلی بڑھی ہیں اور آج رام اللہ، عمان اور دبئی میں رہتی ہیں، اس نے کہا کہ ان کے والدین استاد تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے انہیں تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے انگریزی ادب اور نفسیات میں ڈگری حاصل کی۔ وہ فلسطینی علاقوں میں تدریس کرتی تھیں اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے ساتھ کام کرتی تھیں، اور بعد میں اٹلی میں فیشن شو میں شرکت کی دعوت ملی جس نے ان کی توجہ حاصل کی۔
بعد ازاں ماہرین نے انہیں بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی، اور “مس فلسطین مقابلہ حسن” کے نام سے مقابلے کا قومی چیپٹر قائم کیا۔ بتایا گیا کہ 2022 میں یہ مقابلہ آن لائن منعقد ہوا تاکہ زیادہ نمائندگی ممکن ہو، کیونکہ نصف فلسطینی دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم ہیں اور باقی نصف غزہ، مغربی کنارے اور اسرائیل میں رہتے ہیں۔
ترجمانی کی ضرورت
انہوں نے بتایا کہ پہلے لقب جیتنے کے بعد، وہ خیراتی سرگرمیوں میں شامل ہوئیں اور 2022 میں ملکہ جمال زمین کے مقابلے میں حصہ لیا، لیکن اگلے سال ملکہ جمال الکون میں حصہ نہیں لیا کیونکہ 7 اکتوبر 2023 کو غزہ میں جنگ شروع ہو گئی تھی۔

مگر جنگ کے جاری رہنے کے ساتھ، ملکہ جمال فلسطین نے فیصلہ کیا کہ وہ اس سال مقابلے میں حصہ لے کر فلسطین کی بات کرکے اسے بین الاقوامی سطح پر نمایاں کریں گی۔
انہوں نے کہا: “فلسطینیوں کو ایک آواز کی ضرورت ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ہماری شناخت مٹ جائے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ “ایک خودمختار ملک کی نمائندگی کرتی ہیں”، جسے 193 میں سے تقریباً 145 ممالک نے تسلیم کیا ہے۔
دس ووٹ خلاف
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعہ کو “نیویارک اعلامیہ” کی منظوری دی، جس کا مقصد فلسطینی-اسرائیلی تنازع میں دو ریاستی حل کو فروغ دینا اور “فلسطین کو ایک خودمختار اور آزاد ریاست” کے طور پر قائم کرنا ہے۔ اس قرارداد کے حق میں 142 اور مخالفت میں 10 ممالک نے ووٹ دیا۔
مزیدپڑھیں:ماڈل فیا خان کی دوسری شادی بھی طلاق پر ختم
