لاہور(نیوز ڈیسک)پاکستان کی سپر اسٹار صائمہ نور، جو برسوں تک فلم انڈسٹری پر راج کرتی رہی ہیں اور بعدازاں ڈراموں میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکی ہیں، حال ہی میں ’میں منٹو نہیں ہوں‘ میں ثُرّیا کے کردار سے ٹی وی پر شاندار واپسی کر چکی ہیں۔ اب وہ بابا بلھے شاہ کی زندگی پر بننے والے ایک بڑے تاریخی ڈرامے کا حصہ بننے جا رہی ہیں۔
لاہور میں اس ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران ایک ناخوشگوار واقعہ نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔
50 اقساط پر مشتمل اس ڈرامے میں پرانے لالی ووڈ کے کئی بڑے نام شامل ہیں۔ اس پروجیکٹ کی روحِ رواں سنگیتا ہیں، جنہوں نے ایک پریس کانفرنس میں آبدیدہ ہو کر وہ واقعہ سنایا جس نے پوری ٹیم کو خوفزدہ کر دیا۔
سنگیتا نے سید نور سمیت دیگر فنکاروں کے ساتھ میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ، لاہور میں ایک مقام پر ریکارڈنگ کے دوران ایک وکیل نے انہیں دھمکیاں دیں۔ جب وہ گھر واپس چلی گئیں، تو صائمہ نور، جو اس وقت سیٹ پر موجود تھیں— کو ہراساں کیا گیا اور دو گھنٹے تک زبردستی وہیں بٹھائے رکھا گیا۔
سنگیتا کے مطابق، وہی شخص ان سے ڈھائی کروڑ روپے کا مطالبہ کر رہا ہے اور مسلسل پروجیکٹ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شدید جذباتی لمحے میں سنگیتا رو پڑیں اور پنجاب حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھے، ورنہ انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسی تنازع کی وجہ سے نعمان اعجاز نے اس پروجیکٹ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
انٹرنیٹ پر صائمہ نور اور سنگیتا کے حق میں اوازیں اٹھنے لگیں، لوگوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا، حکومتِ پنجاب کو فوراً ایکشن لینا چاہیے۔ ہر عورت کا احترام ضروری ہے یہ رویہ ناقابلِ برداشت ہے۔ ایسی ہراسانی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
مزیدپڑھیں:ڈکی بھائی کے نئےسنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے