اسلام آباد(نیوزڈیسک)سابق کرکٹر شاہد خان آفریدی کی اسرائیلی گروپ کے ساتھ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر جس میں صیہونی گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ آل راؤنڈر اور سابق کپتان نے حماس کی جانب سے یہودیوں کے یرغمال بنائے جانے کیخلاف ان کے احتجاج کی حمایت کی۔
تاہم معاملے کی حقیقت کیا ہے اس حوالے سے شاہد آفریدی نے وضاحت کردی ۔شاہد آفریدی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصویر کسی بھی ایسی صورتحال کیلئے ان کی حمایت کا اشارہ نہیں کرتی جہاں ’انسانی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین میں معصوم جانوں کو تکلیف میں دیکھنا واقعی دل دہلا دینے والا ہے۔ لہٰذا مانچسٹر (برطانیہ) میں شیئر کی جانے والی کوئی بھی تصویر یا ایسوسی ایشن کسی بھی ایسی صورت حال کے لیے میری حمایت کی عکاسی نہیں کرتی جہاں انسانی جانیں داؤ پر لگی ہوں۔
شاہد آفریدی نے برطانیہ میں یہ تصویر کیوں بنوائی اس حوالے سے قومی ٹیم کے سابق کپتان نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ میں متعلقہ افراد کو عام کرکٹ مداح سمجھا انھوں نے مجھ سے سیلفی کی درخواست کی تھی اور مجھے تصویر بنوانے پر مجبور کیا تھا لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ ان کے عزائم کیا ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ تصویر بنوانے کے کچھ لمحوں بعد، انہوں نے اسے صیہونی حمایت کی کسی شکل کے طور پر اپ لوڈ کیا۔ جو ”ناقابل یقین“ ہے۔ براہ مہربانی اپ لوڈ کی گئی ہر چیز پر یقین نہ کریں۔
پولیس کا پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کے گھر اور ڈیرے کا گھیراؤ ، پولیس کی بھاری نفری تعینات

