حیدرآباد(نیوز ڈیسک) بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے پہلی بار کھل کر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سابق شوہر شعیب ملک سے علیحدگی کے بعد سنگل پیرنٹ کے طور پر زندگی گزارنا ان کے لیے بے حد مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرحد پار بچے کی پرورش ایک بڑی اور مسلسل آزمائش ہے۔
شعیب ملک سے شادی کے بعد دبئی منتقل ہونے والی ثانیہ مرزا اس وقت اپنے بیٹے اذہان کی بنیادی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔ حال ہی میں فلم ساز و میزبان کرن جوہر کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ تنہا والدین بننا جذباتی طور پر بہت بھاری تجربہ ہے، اور مصروف پیشہ ورانہ شیڈول کے ساتھ اس ذمہ داری کو نبھانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
ثانیہ مرزانے کہا کہ “میرے لیے سنگل پیرنٹنگ واقعی مشکل ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ہم اپنے کام کے ساتھ ساتھ کئی ذمہ داریاں بیک وقت ادا کر رہے ہوتے ہیں۔”
کرن جوہر، جو خود بھی اپنے جڑواں بچوں کے سنگل والد ہیں، نے ثانیہ کو صورتحال کا مثبت پہلو سمجھاتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات اکیلے فیصلے کرنا آسان ہو جاتا ہے کیونکہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ اختلاف کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
گفتگو میں ثانیہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ کئی بار کام کے سلسلے میں گھر سے نکلتے ہوئے اپنے بیٹے کو چھوڑ کر جانا جذباتی طور پر بہت تکلیف دہ محسوس کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات وہ تنہائی سے بچنے کے لیے کھانا بھی چھوڑ دیتی ہیں تاکہ اکیلے میز پر بیٹھنے کا احساس نہ ہو۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ پیشہ ورانہ مصروفیات اور والدین کی ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے، خاص طور پر جب بچہ دو ممالک میں رہنے والے والدین کے درمیان وقت تقسیم کرتا ہو۔
ثانیہ مرزا کی اس کھلی گفتگو نے کئی سنگل والدین کے جذبات کی ترجمانی کی ہے جو اپنے کیریئر اور بچوں کی پرورش کے درمیان روزانہ کی جدوجہد سے گزرتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:سونم کپور نے اسٹائلش فوٹوشوٹ کے ساتھ دوسرے بچے کی آمد کی تصدیق کر دی


