لاہور(سپورٹس ڈیسک)ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان شیڈول میچ کے بائیکاٹ کے معاملے پر عالمی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا وفد لاہور پہنچ گیا ہے۔
آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ میچ کے بائیکاٹ کے معاملے پر آئی سی سی اور بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے پسینے چھوٹ گئے ہیں اور پاکستان کو منانے کی کوششوں میں تیزی آگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی سی سی نے وائس چیئرمین عمران خواجہ کو پاکستان کو راضی کرنے کا ٹاسک دیا ہے اور اس حوالے سے عمران خواجہ کی قیادت میں آئی سی سی کا وفد کولمبو سے لاہور پہنچ گیا ہے۔
سنگاپور سے تعلق رکھنے والے عمران خواجہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ملاقات کریں گے اور انہیں پاک بھارت میچ کے لیے منائیں گے۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے علاوہ بنگلہ دیشی بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی آئی سی سی وفد سے ملاقات کریں گے۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی بنگلادیش سے اظہار یکجہتی کا اظہار کریں گے، بنگلا دیش کو ورلڈ کپ کی آمدن کا ریونیو دلانے اور آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی دلانے میں کردار ادا کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی وفد اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ اجلاس کے بعد آج ہی واپس چلے جائیں گے۔
اس سے قبل بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے سربراہ امین الاسلام بھی لاہور پہنچے، جہاں انہوں نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ملاقات کی جب کہ ملاقات میں ٹی 20 ورلڈ کپ اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت ہوئی۔
واضح رہے کہ یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا کہ جب بنگلہ دیش کے فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کے دباؤ میں آکر انہیں اسکواڈ سے ریلیز کردیا تھا، جس کے بعد بنگلہ دیش کی جانب سے بھارت میں جاری ٹی 20 ورلڈ کپ میں اپنے کھلاڑیوں کے لیے مقام تبدیل کرنے کی درخواست آئی سی سی سے کی گئی تھی۔
بنگلہ دیش نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا تھا کہ بنگلہ دیش کے تمام میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں جس پر آئی سی سی نے بی سی بی کی درخواست مسترد کردی تھی اور بنگلہ دیش کو ایونٹ سے باہر کرکے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرلیا تھا۔
جوابی اقدام کے طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کی بھرپور حمایت کی تھی اور بنگلہ دیش کا ساتھ دیتے ہوئے ٹی 20 ورلڈ کپ میں 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، جس کے باعث آئی سی سی کو بھاری مالی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بعد ازاں یکم فروری کو پاکستانی حکومت نے قومی ٹیم کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دی لیکن بھارت کے خلاف 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مزیدپڑھیں:’جیفری ایپسٹین زندہ ہیں‘



