Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ،پاکستان کاٹاس جیت کرفیلڈنگ کافیصلہ

کولمبو(سپورٹس ڈیسک)آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سب سے بڑے مقابلے میں پاکستان نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستانی کپتان سلمان آغا نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

کولمبو میں آج بولنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ میں مہارت کا استعمال اور اعصاب کا امتحان اور صلاحیتوں کا اظہار ہوگا۔ بھارتی ٹیم کے پاس بیٹنگ کا ہتھیار ہے تو پاکستانی شاہین بولنگ سے وار کریں گے۔

بھارتی بیٹرز عثمان طارق کے منفرد بولنگ ایکشن سے پریشان ہیں۔ پاکستان کے خلاف میچ سے قبل کولمبو میں نیٹ سیشن کے دوران بھارتی بیٹرز نے عثمان طارق کے بولنگ ایکشن کے انداز کے بولرز کے سامنے پریکٹس کی۔

بھارت اور پاکستان آٹھ مرتبہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ باہمی مقابلوں میں بھارت کو 7-1 کی برتری حاصل ہے، لیکن بیشتر میچ سنسنی خیز اور قریب ترین رہے ہیں۔ 2007 کے ایڈیشن میں دو مقابلوں، جن میں فائنل بھی شامل تھا، سے لے کر 2024 میں نیویارک کے ٹاکرے تک یہ مقابلہ شاذ و نادر ہی یکطرفہ ثابت ہوا ہے۔

2020 کی دہائی میں بھی یہی رجحان برقرار رہا۔ اس عرصے میں دونوں ٹیمیں تین بار ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں مدمقابل آئیں، جن میں سے دو میں بھارت اور ایک میں پاکستان کامیاب رہا۔ تاہم ہر میچ چند فیصلہ کن لمحات سے عبارت تھا، واضح برتری سے نہیں۔

اتوار کو ایک اور بڑے مقابلے سے قبل، اس دہائی میں ہونے والے میچوں پر ایک نظر:

2021، گروپ مرحلہ، دبئی — پاکستان کی 10 وکٹوں سے کامیابی

کئی ناکامیوں کے بعد پاکستان نے عالمی کپ میں بھارت کے خلاف یادگار فتح حاصل کی۔ دبئی میں 10 وکٹوں سے جیت کی بنیاد شاہین شاہ آفریدی کی شاندار بولنگ نے رکھی، جنہوں نے ابتدائی اوورز میں بھارتی اوپنرز کو آؤٹ کیا۔ چھ سال بعد ہونے والے اس مقابلے میں 151 رنز دبئی کی پچ پر ناکافی ثابت ہوئے، جہاں ہدف کا تعاقب نسبتاً آسان سمجھا جاتا تھا۔

بابر اعظم اور محمد رضوان نے بغیر کوئی وکٹ گنوائے ہدف حاصل کیا اور پورے اعتماد کے ساتھ میچ اپنے نام کیا۔ بھارت کے لیے یہ مہم 2007 کے ایک روزہ عالمی کپ کے بعد سب سے مایوس کن ثابت ہوئی۔

2022، گروپ مرحلہ، میلبورن — بھارت کی 4 وکٹوں سے جیت

میلبورن میں کھیلا گیا مقابلہ ڈرامائی موڑ کے باعث یادگار بن گیا۔ پاکستان نے 159 رنز بنائے جو قابلِ دفاع نظر آ رہے تھے۔ بھارت کی ابتدا خراب رہی اور اسکور 31 پر 4 وکٹیں گر گئیں۔

ویرات کوہلی اور ہاردک پانڈیا نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے اننگز کو سنبھالا۔ آخری تین اوورز میں 48 رنز درکار تھے اور میچ مشکل دکھائی دے رہا تھا۔ پھر حارث رؤف کے اوور میں کوہلی کا سیدھا چھکا میچ کا رخ بدل گیا۔ آخری اوور میں نو بال، وکٹیں، رن آؤٹ اور وائیڈ بالز کے ڈرامے کے بعد روی چندرن اشون نے کور کے اوپر شاٹ کھیل کر جیت یقینی بنائی۔

2024، گروپ مرحلہ، نیویارک — بھارت کی 6 رنز سے کامیابی

نیویارک میں کم اسکورنگ مقابلہ ہوا جو بعد میں بھارت کی ٹائٹل مہم میں اہم ثابت ہوا۔ میدان بیٹنگ کے لیے مشکل سمجھا جا رہا تھا، اس لیے بھارت کے 119 رنز مسابقتی ثابت ہوئے۔

ہدف کے دفاع میں جسپریت بمراہ نے نظم و ضبط کے ساتھ بولنگ کی اور چار اوورز میں 14 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جن میں محمد رضوان کی اہم وکٹ بھی شامل تھی۔ آخری اوورز میں بھارت نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے چھ رنز سے فتح حاصل کی۔

یہ جیت بھارت کی پاکستان کے خلاف برتری کو 7-1 تک لے گئی اور وہ 11 سال بعد آئی سی سی ٹرافی جیتنے میں کامیاب رہا۔

یہ بھی پڑھیں