گیری کرسٹن پاکستان کوچنگ مداخلت کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سابق ہیڈ کوچ نے اپنے تجربات بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی دباؤ نے کام کو مشکل بنا دیا تھا۔
ایک انٹرویو میں جنوبی افریقی کوچ نے بتایا کہ باہر سے زیادہ مداخلت فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں کوچ کے لیے مؤثر انداز میں کام کرنا آسان نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ واضح حکمت عملی بنانا اور اس پر عملدرآمد کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مختلف اطراف سے دباؤ ہونے کی وجہ سے ٹیم کو ایک سمت میں لے جانا بڑا چیلنج بنتا ہے۔
ان کے مطابق خراب کارکردگی پر فوری اور سخت ردعمل ٹیم کے ماحول کو متاثر کرتا ہے۔ اس سے ٹیم میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوچ کو تبدیل کرنا آسان حل سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ طریقہ فائدہ مند نہیں ہوتا۔ بہتر نتائج کے لیے کوچ کو مکمل آزادی دی جانی چاہیے۔
گیری کرسٹن نے پاکستانی کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی باصلاحیت ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنا خوشگوار تجربہ رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ زبان کا فرق ہونے کے باوجود کرکٹ ایک ایسی زبان ہے جو سب کو جوڑتی ہے اور میدان میں بہتر رابطہ قائم کرتی ہے۔

