Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

خبردار ، آپکے موبائل فونز آپکی باتیں سنتے ہیں، معروف کمپنی کےاعتراف نےہلچل مچادی

آپ کو یقیناً کبھی نہ کبھی ایسا ضرور محسوس ہوا ہوگا کہ ہمارے موبائل فونز ہماری گفتگو سن رہے ہیں اور پھر ہمیں ان ہی چیزوں کے اشتہارات نظر آنے لگتے ہیں جن کا ذکر ہم نے اپنی گفتگو میں کیا ہوتا ہے۔اس احساس یا دعوے کو حقیقت ثابت کرنے کیلئے ہمیں کبھی باقاعدہ کوئی ثبوت نہیں مل سکا، تاہم اب ایک مارکیٹنگ فرم نے تصدیق کی ہے کہ اسمارٹ فونز میں صارفین کی بات سننے کے لیے سافٹ وئیر موجود ہوتے ہیں۔گوگل اور فیس بک کو سروسز فراہم کرنے والی ایک ٹیک فرم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ صارفین سے متعلق معلومات اکٹھا کرنے کے لیے موبائل فون کے مائیکروفون کا استعمال کرتی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ جب آپ کسی سے گفتگو کے دوران کچھ خریدنے کی بات کرتے ہیں تو آپ کا پاس موجود آپکا موبائل فون بھی اس گفتگو کو سنتا ہے اور پھر آپ کے فون پر اسی پروڈکٹ کے اشتہارات تواتر سے نظر آنے لگتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹیلی ویژن اور ریڈیو انڈسٹری کے ایک بڑے نام ‘کاکس میڈیا گروپ’ نے سرمایہ کاروں کے سامنے ایک پریزنٹیشن میں انکشاف کیا کہ اس کی ایکٹیو لسننگ ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کرتے ہوئے بات چیت کی نگرانی اور تجزیہ کرکے صارف کے ارادوں کے بارے میں (خاموشی سے تمام گفتگو سُن کر) ریئل ٹائم ڈیٹا اکٹھا کرتی ہے۔مزید برآں کمپنی نے پچ ڈیک میں یہ بھی لکھا کہ یہ ٹیکنالوجی ایڈورٹائزرز (مشتہرین) کو وائس ڈیٹا (voice data) کو بیہیورل ڈیٹا (behavioural data) کے ساتھ پرکھنے کا اختیار دیتی ہے، جس سے وہ مخصوص طور پر اُن صارفین کو ٹارگٹ کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں جو خریداری کا سوچ رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق کمپنی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ ٹیکنالوجی صارفین کی طرف سے ان کی بات چیت اور online behaviour کے ذریعے بننے والے ڈیٹا ٹریل کو جمع کرنے میں مدد کرتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اے آئی سے چلنے والا یہ سافٹ ویئر 470 سے زائد ذرائع سے behavioral data اور voice data اکٹھا کرتا ہے اور اس کا تجزیہ کرتا ہے۔اس تازہ انکشاف نے انڈسٹری میں ہلچل مچادی ہے، میٹا اور ایمیزون کا براہ راست تعلق اس مارکیٹنگ فرم (کوکس میڈیا گروپ) سے ہے، اس لیے دونوں نے اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ان انکشافات نے میٹا کو اِس مارکیٹنگ فرم کی سروس کی شرائط (terms of service) کا مکمل جائزہ لینے اور تجزیہ کرنے پر مجبور کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا وہ واضح اجازت کے بغیر صارف کا ڈیٹا واقعی اکٹھا کرکے اس کا استعمال کر رہے ہیں یا نہیں، جوکہ معاہدے کی سراسر خلاف ورزی اور صارف کے اعتماد سے سمجھوتہ کرنے کے مترادف ہے۔دوسری جانب ایمیزون نے اس مارکیٹنگ ایجنسی کی جانب سے ڈیٹا پرائیویسی کی ناکامی میں اپنی رضامندی شامل ہونے کی تردید کی ہے اور واضح کیا کہ ایمیزون کمپنی اس ایجنسی کے ساتھ کام کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

ایمیزون نے ایک سخت انتباہ بھی جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر اسے معلوم ہوا ہے کہ اس کے شراکت داروں میں سے کسی نے اس کی سروس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے تو وہ فوری قانونی کارروائی کرے گا۔واضح رہے کہ کوکس میڈیا گروپ کی جانب سے ایک پوسٹ (جوکہ اب ڈیلیٹ کی جاچکی ہے) میں اعتراف کیا گیا تھا کہ صارفین جب بھی کوئی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں تو وہ ایکٹیو لسننگ ٹیکنالوجی کیلئے اظہارِ رضامندی کرتے ہیں۔اس حذف شدہ پوسٹ کے مطابق کمپنی کا مؤقف یہ ہے کہ موبائل ڈیوائسز کے ذریعے صارفین کی گفتگو سننا مکمل طور پر اس لیے قانونی ہے کیونکہ صارفین جب بھی کوئی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ یا اپ ڈیٹ کرتے ہیں تو ایک سے زیادہ صفحات پر مشتمل Terms and conditions کو بنا پڑھے مان لیتے ہیں جس میں Active listening کی شق اکثر شامل ہوتی ہے۔

پاکستان میں‌انٹرنیٹ سروسز میں خلل ٹھیک کرنے کی تاریخ24 ستمبر مقرر

یہ بھی پڑھیں