Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

سیکنڈ ہینڈ موبائل خریدنے والے افراد ہوشیار ہوجائیں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پولیس حکام نے سیکنڈ ہینڈ موبائل خریدنے والے افراد کو خبردار کیا ہے کہ اس سے آپ کو قانونی کارروائی اور تفتیش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مارکیٹ سے سیکنڈ ہینڈ موبائل فون خریدنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، تاہم یہ سہولت بعض اوقات صارفین کے لیے سنگین مسائل بھی کھڑے کر سکتی ہے۔حال ہی میں لاہور پولیس کے موبائل ٹریکنگ یونٹ کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران لاہور سے 35 ہزار سے زائد چوری یا چھینے گئے موبائل فونز برآمد کیے جا چکے ہیں۔پولیس حکام نے بتایا کہ ان میں سے بڑی تعداد ایسے موبائل فونز کی تھی، جو صارفین نے بغیر تصدیق اور قانونی جانچ کے خریدے تھے، جس کے باعث متعدد افراد کو بعد ازاں قانونی کارروائی اور تفتیش کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز یا غیر رجسٹرڈ ڈیلرز سے سیکنڈ ہینڈ موبائل خریدنا خطرناک اور مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔

اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے آل پاکستان موبائل فونز ایسوسی ایشن کے سینیئر نائب صدر ذیشان خالد نے کہا کہ صارفین کو موبائل خریدتے وقت آئی ایم ای آئی نمبر کی تصدیق اور مستند دکاندار سے خریداری کو یقینی بنانا چاہیے، تاکہ کسی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:طلباء کے داخلوں کے لیے پارٹنرز رجسٹریشن پورٹل کا آغاز

یہ بھی پڑھیں