Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

میکڈونلڈ کا اسرائیل میں اپنے تمام ریستوران واپس خریدنے کا فیصلہ

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے ردعمل میں بائیکاٹ مہم سے متاثر مشہور فاسٹ فوڈ کمپنی میکڈونلڈز نے تمام 225 اسرائیلی ریستوران مقامی کمپنی سے واپس خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فاسٹ فوڈ چین میکڈونلڈز کو اس وقت سے بائیکاٹ اور مظاہروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب اسرائیل میں میکڈونلڈز کی فرنچائزز کی مالک کمپنی الونیال نے فلسطینی گروپ حماس کے 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے فوراً بعد اعلان کیا تھا کہ وہ فوج کو مفت کھانا فراہم کریں گے۔

حال ہی میں میکڈونلڈز نے مقامی کمپنی سے تمام اسرائیلی ریستوران واپس خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا ایلوینال سے 225 ریستوران خریدنے کا معاہدہ ہے، ان ریسٹورنٹس میں تقریباً 5 ہزار افراد کام کرتے ہیں۔ .

 مزید پڑھیں:  میکڈونلڈ کی کس ملک میں تمام فرنچائز بند کردی گئیں؟

ایلوینال پچھلے 30 سالوں سے اسرائیل میں میکڈونلڈ ریسٹورنٹس چلا رہی ہے۔ دونوں کمپنیوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں تاہم کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ کچھ شرائط سے مشروط ہے تاہم کمپنی کی جانب سے شرائط واضح نہیں ہیں۔

تاہم فاسٹ فوڈ چین نے کہا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنا کاروبار ختم نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان، کویت، سعودی عرب، ملائیشیا اور عرب ممالک میں میکڈونلڈز کا کھلا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث امریکی کمپنی کی فروخت متاثر ہوئی ہے اور بدھ کو میکڈونلڈ کے حصص مزید گر گئے۔

فروری میں، میک ڈونلڈز کے سی ای او کرس کیمپزنسکی نے تسلیم کیا کہ اسرائیل-حماس جنگ کا مشرق وسطیٰ کے ممالک اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک جیسے ملائیشیا اور انڈونیشیا میں فروخت پر “مایوس کن” اثر پڑا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ جب تک یہ تنازع جاری رہے گا، ہمیں کاروبار میں کوئی خاص بہتری دیکھنے کی امید نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں