بنکاک(نیوزڈیسک) 6 ایشیائی ممالک شینگن ویزا کی طرز پر مشترکہ ویزا متعارف کرانے پر غور کر رہے ہیں تاکہ سیاح آسانی اور آرام کے ساتھ متعدد ممالک کی سیر کر سکیں۔اس تجویز کو آگے بڑھایا جا رہا ہے جس کے تحت تھائی لینڈ، میانمار، کمبوڈیا، ویت نام، ملائیشیا اور لاؤس ان ممالک کی سیر کے خواہشمند سیاحوں کیلئے ایک ہی متحدہ ویزا پیش کریں گے۔
مشترکہ ویزا پروگرام تھائی لینڈ کی طرف سے آگے بڑھایا جا رہا ہے اور سیاحوں کو ان ممالک کے لیے ایک ہی ویزا کی اجازت دے گا جنہوں نے گزشتہ سال مجموعی طور پر 70 ملین سیاحوں کا استقبال کیا تھا۔تھائی وزیر اعظم، Sretta Thavisin ان ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت میں اس مشترکہ ویزا اقدام کو آگے بڑھانے کے علاوہ سیاحوں کو اپنے ملک کی طرف راغب کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔تھاویسین اپنی سیاحت کی حامی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس نے ہندوستان، تائیوان اور قازقستان کے مسافروں کے لیے عارضی ویزا چھوٹ کی بھی اجازت دی ہے۔
مزید یہ کہ حکومت نے اس سال مارچ سے چین کے ساتھ مستقل طور پر ویزا فری معاہدہ بھی کیا ہے۔واضح رہے کہ متحدہ ویزا دنیا بھر میں مقبول ہو رہے ہیں جس کے ساتھ ہی خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک بھی بلاک کے ممالک کے لیے اس سلسلے میں انتظامات کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔اگرچہ مبینہ طور پر چھ ممالک متحدہ ویزا کی تجویز کا مثبت جواب دے رہے ہیں، تاہم ان ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے کوئی باضابطہ بات سامنے نہیں آئی ہے۔
بہر حال، تھائی لینڈ کی حالیہ ویزا چھوٹ اور نرمی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک ایک ایسا فریم ورک وضع کرنے کے قابل ہو سکتا ہے جس کے تحت متحد ویزا کا خواب حقیقت بن جائے۔تھائی لینڈ یورپ تک ویزا فری رسائی کے امکان پر بھی بات کر رہا ہے جس کے لیے اس نے فرانس اور جرمنی جیسے اعلیٰ یورپی کھلاڑیوں کی حمایت حاصل کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ اگر ایشیائی ممالک کے لیے متحد ویزا متعارف کرایا جاتا ہے تو اس سے ایشیائی گلوبٹروٹر کے لیے نئے مواقع کھلیں گے جو ہر ملک کے لیے الگ الگ ویزا حاصل کرنے کی پریشانی سے بچ سکیں گے۔


