تہران( ویب ڈیسک)ایرانی حکومت 9 سال کے وقفے کے بعد 5 ہزار سے زائد عمرہ زائرین کو سعودی عرب بھیجے گی۔
ایران ایئر پورٹس کمپنی میں حج آپریشنز کے انچارج محمد حسین عجلیان نے ہفتہ کے روز اعلان کیا کہ 11 پروازیں ایرانی زائرین کو عمرہ کے لئے سعودی عرب لے جانے والی ہیں۔
مشہد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پیر کو پہلی پرواز چلائی جائے گی اور زاہدان، اہواز، تبریز، یزد، کرمان، بندر عباس، ساری، اصفہان اور شیراز سمیت دیگر بڑے شہروں کے ہوائی اڈوں پر ایک ایک پرواز چارٹر کی جائے گی۔
اس سلسلے میں مشہد کے ہوائی اڈے پر 2 مئی کو سعودی عرب کے لیے آخری پرواز چلائی جائے گی۔ جہاں تک حجاج کرام کی تعداد کا تعلق ہے، ایران اس سال 5,720 عازمین کو سعودی عرب بھیجے گا۔
دونوں ممالک نے اپنا تنازع حل کیا اور گزشتہ سال دسمبر میں عمرہ پروازوں کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ، اس وقت منصوبوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔
مزیدپڑھیں:پاکستان نے نیوزی لینڈ کو7وکٹوں سے شکست دیدی
اس وقت یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ سعودی عرب نے ایرانی طیاروں کے مملکت میں داخلے کے حتمی اجازت نامے منسوخ کر دیے ہیں تاہم اب معاملات حل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
مارچ 2023 میں ایران اور سعودی عرب کے مابین سفارتی تعلقات کے دوبارہ قیام کے بعد عمرہ کی بحالی ایک اہم لمحہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہونے سے ایک سال قبل 2015 میں حج روک دیا گیا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان تنازع 2015 کے حج بھگدڑ کا تھا جس نے ایرانی حاجیوں کی ہلاکت کی وجہ سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کیا تھا۔ ایرانی رہنماؤں نے سعودی حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس سانحے کا ذمہ دار ہے جس کے نتیجے میں 400 سے زائد ایرانیوں سمیت تقریبا 2000 زائرین ہلاک ہوئے تھے۔
دونوں ممالک کے درمیان چین کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات اب ثمر آور ثابت ہو رہے ہیں اور عمرہ زائرین کی بحالی اسی سمت میں ایک قدم ہے۔