Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

عراق میں پاکستانی زائرین کی غیر قانونی سرگرمیاں بے نقاب ،بڑی کارروائی کا فیصلہ

اسلام آباد (رضوان عباسی سے ) عراق میں پاکستانی سفارتخانے نے 50 ہزار سے زائد پاکستانی زائرین کی غیر قانونی موجودگی اور انسانی اسمگلنگ کے انکشاف پر ایف آئی اے کو فوری کارروائی کے لیے خط لکھ دیا ہے۔ خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زیارت کے بہانے عراق جانے والے کئی پاکستانی مرد و خواتین جعلی عراقی پاسپورٹس کے ساتھ مختلف جرائم جیسے گداگری، چوری، منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی میں ملوث پائے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایجنٹس لاکھوں روپے وصول کر کے زائرین کو دو پاسپورٹس کے ساتھ عراق بھیجتے ہیں، جن میں سے ایک پاسپورٹ عراق پہنچنے کے بعد ضائع کر دیا جاتا ہے۔ خط میں شامل معلومات کے مطابق، عراق میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دے کر ہر زائر سے 5 سے 6 لاکھ روپے تک بٹورے جا رہے ہیں۔مزید برآں، عراقی مرد اور بعض اوقات پاکستانی شہری ان خواتین کا ذہنی و جسمانی استحصال بھی کر رہے ہیں جو بیوٹی پارلرز یا گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ عراقی امیگریشن حکام زائرین کے پاسپورٹس اپنے پاس رکھ لیتے ہیں، اور واپسی کی تصدیق پر ہی یہ پاسپورٹس واپس کیے جا رہے ہیں۔پاکستانی سفارتخانے کے خط میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹس کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں، اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

عراقی وزیر خارجہ بارہا غیر قانونی پاکستانیوں کے معاملے پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ وزارت خارجہ نے اس سنگین معاملے کو حل کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی سفارش کی ہے۔دوسری جانب، ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز نے گوجرانوالہ اور اسلام آباد زونز کو بھی اس سلسلے میں ہدایات جاری کر دی ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹس کے خلاف کسی بھی قسم کی معلومات فراہم کریں تاکہ ان مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کتنی کمی ہوگی؟عوام کیلئے بڑی خبر

یہ بھی پڑھیں