Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

باغیوں کا شامی دارالحکومت دمشق پر قبضہ،صدر بشار الاسد فرار ، روئٹر اور سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا دعویٰ

دمشق (نیوزڈیسک)خبر رساں ادارے روئٹرز نے شام کے دو سینئر افسران کے حوالے سے خبر دی ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد طیارے میں سوار ہو کر دمشق سے نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔

سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس وار مانیٹر کا دعویٰ ہے کہ دمشق کے ہوائی اڈے سے نکلنے والا ایک نجی طیارہ ممکنہ طور پر اسد کو لے کر جا رہا تھا۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہوائی اڈے پر موجود سرکاری دستوں کو ان کی روانگی کے بعد وہاں سے رخصت کر دیا گیا۔یہ اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب باغی فورسز کا دعویٰ ہے کہ وہ شام کے دارالحکومت میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

شام میں بشارالاسد مخالف باغیوں نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فوجیں دارالحکومت دمشق میں داخل ہو رہی ہیں دوسری جانب باغیوں کے شام کے تیسرے بڑے شہر حمص پر قبضے کی بھی اطلاعات ہیں۔

باغیوں کے ایک رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فورسز نے ملک کے تیسرے بڑے شہر حمص کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ابو محمد الگولانی نے اسے ایک تاریخی وفتح قرار دیتے ہوئے اپنے حامیوں کو کہا ہے کہ کسی ایسے شخص کو نقصان کو نہ پہنچائیں جو ہتھیار ڈال دے۔شام کی وزارتِ دفاع نے ان رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حمص کی صورتحال ’مستحکم اور محفوظ‘ ہے۔شام کی جنگ پر نظر رکھنے والے ادارے سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق بشارالسد مخالف باغی حمص میں داخل ہو چکے ہیں اور شہر کے کئی علاقوں کا کنٹرول اب ان کے ہاتھ میں ہے۔

باغی کمانڈر حسن عبدالغنی کا کہنا ہے کہ شام کی بدنامِ زمانہ صیدنایا جیل سے تقریباً ساڑھے تین ہزار قیدیوں کو رہا کروایا جا چکا ہے۔اگر حمص باغیوں کے کنٹرول میں چلا گیا ہے تو اس سے دمشق کا ساحلی علاقے سے رابطہ منقطع ہو جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق باغی فورسز دارالحکومت دمشق کی طرف بڑھ رہی ہیں اور شام کے تیسرے بڑے شہر حمص میں بھی داخل ہوچکی ہیں۔ہیئت تحریر شام کو اقوام متحدہ، امریکہ اور ترکی سمیت متعدد مالک نے ایک دہشتگرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

ماضی میں اس کا نام جبھہ النصرہ تھا اور یہ القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم تھی، تاہم بعد میں اس گروہ نے القاعدہ سے علیحدگی کا اعلان کردیا اور اس کا نام تبدیل کر کے ہیئت تحریر شام رکھ دیا گیا۔

شام کے دارالحکومت دمشق پر اس وقت خوف اور غیریقینی کے سائے منڈلا رہے ہیں، باغی فورسز قریب پہنچتی جا رہی ہیں اور ایسے میں لوگوں کو نہیں معلوم کہ وہاں آخر ہو کیا رہا ہے۔دمشق کے نواحی علاقوں میں اسد خاندان کی طاقت کی نشانی سمجھی جانے والی علامات کو مسمار کر دیا گیا ہے۔

ملک کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے دارالحکومت کے اطراف میں ’آہنی دیوار‘ کھڑی کردی ہے۔لیکن اب تک سرکاری افواج دیگر شہروں اور قصبوں کا دفاع کرنے میں ناکام ہوئی ہیں اور کئی علاقے متعدد باغی گروہوں کے کنٹرول میں جا چکے ہیں۔

دوسری جانب صدر بشار الاسد کہاں ہیں اس حوالے سے بھی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ لوگ ملک میں آنے اور جانے والی پروازوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ کہیں ملک کے صدر دمشق چھوڑ کر تو نہیں چلے گئے۔

تاہم ان صدر کے دفتر سے جاری بیان میں بشار الاسد کے دمشق چھوڑنے کی خبروں کی تردید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ دارالحکومت میں ہی اپنے کام میں مصروف ہیں۔تاہم صدر بشار الاسد ابھی تک کہیں نظر نہیں آئے ہیں۔
صدرآزادکشمیر بیرسٹر سلطان محمود کا متنازعہ آرڈیننس واپس لینے اور گرفتار کارکنوں کو رہا کرنے کا حکم

یہ بھی پڑھیں