Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

فالس فلیگ آپریشن،بی بی سی نے پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا

22 اپریل 2025 کو پہلگام کے معروف سیاحتی مقام بیسرن میں پیش آئے ایک خونی دہشتگرد حملے کے بعد جو معلومات سامنے آ رہی ہیں، وہ سرکاری بیانیے اور زمینی حقائق میں واضح تضاد کی نشاندہی کرتی ہیں۔

سرکاری طور پر تھانہ پہلگام کی طرف سے درج پہلی معلوماتی رپورٹ (FIR) کے مطابق، حملے کی اطلاع دوپہر 1:50 بجے موصول ہوئی، جبکہ ایف آئی آر کا اندراج دوپہر 2:30 بجے (14:30) ہوا۔ رپورٹ میں حملے کی نوعیت، مقام، اسلحے کی نوعیت، زخمیوں اور ہلاکتوں کی تعداد سمیت کئی دیگر تفصیلات واضح طور پر درج ہیں۔

تاہم، بی بی سی نیوز کی گراؤنڈ رپورٹنگ اس سرکاری بیان سے سنگین تضاد سامنے لاتی ہے۔بی بی سی کے رپورٹر ماجد جہانگیر کے مطابق، عبدالواحد وانی، جو مقامی رہائشی اور گھوڑے و خچر کی خدمات فراہم کرنے والی تنظیم کے سربراہ ہیں، وہ پہلے شخص تھے جو جائے وقوعہ پر پہنچے۔ ان کے مطابق:


“مجھے پولیس کی طرف سے 2:35 پر فون آیا۔ میں اُس وقت گنشیبل میں تھا۔ پولیس نے کہا کہ بیسرن میں کچھ ہوا ہے، تم جا کر دیکھو۔ میں اپنے بھائی سجاد کو ساتھ لے کر ساڑھے تین بجے (15:30) وہاں پہنچا۔ اس وقت وہاں کوئی نہیں تھا۔ ہر طرف خون تھا۔ پولیس ہم سے بعد میں پہنچی۔”

یہ بیان کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے:

اہم سوالات جو جواب طلب ہیں:
اگر حملہ 1:50 پر ہوا، اور ایف آئی آر 2:30 پر درج ہوئی، تو:

پولیس کو اتنے تفصیلی حقائق (جیسے اسلحے کی نوعیت، دہشتگردوں کے ارادے، سرحد پار سے منصوبہ بندی کا حوالہ) کیسے اور کب معلوم ہوئے؟

کیا پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچنے اور ابتدائی شواہد دیکھے بغیر ہی ایف آئی آر درج کی؟

عبدالواحد وانی کا بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ:

پولیس 3:30 کے بعد پہنچی۔

یعنی ایف آئی آر 1 گھنٹہ قبل درج ہو چکی تھی؟

کیا ایف آئی آر کو پیشگی تیار کیا گیا؟

اگر ہاں، تو اس کا مقصد کیا تھا؟

اگر نہیں، تو پھر ایسے مفصل بیانات کہاں سے آئے جبکہ پولیس ابھی تک مقامِ واردات پر پہنچی ہی نہیں تھی؟

یہ بھی پڑھیں